سینیٹ اجلاس: انوارالحق کاکڑ اور کامران مرتضیٰ میں شدید تلخ کلامی
سینیٹ اجلاس میں تلخ کلامی
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پارلیمان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں سابق نگران وزیراعظم اور سینیٹر انوارالحق کاکڑ اور جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) سینیٹر کامران مرتضیٰ کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: عرب ممالک شام میں پرامن انتقال اقتدار کی حمایت پر متفق
واقعات کی تفصیلات
نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس کے دوران انوارالحق کاکڑ اور کامران مرتضیٰ میں تلخ کلامی اتنی بڑھ گئی کہ دیگر ممبران نے دونوں کو آکر بٹھایا۔ سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بتایا کہ صوبہ بلوچستان میں 18 مئی کی رات کو جنرل سیکرٹری بار کونسل عطا اللہ بلوچ کو اغواء کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھائی کی فائرنگ سے 2 بہنیں جاں بحق، ایک زخمی، چئیرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ کا نوٹس، ڈی پی او اوکاڑہ سے رپورٹ طلب
وکالت کی توہین پر اظہار خیال
کامران مرتضیٰ نے کہا کہ وکالت ایک مقدس پیشہ ہے، اس اقدام سے اس کی توہین کی گئی۔ قومی یکجہتی کا پورے ملک میں ماحول ہے، اسے چلنے دیں۔
یہ بھی پڑھیں: خانیوال؛ تنسیخ نکاح کا دعوی کرنے پر شوہر کی بیوی پرفائرنگ،ملزم حراست
جواب میں انوارالحق کاکڑ کا بیان
سابق نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے جواباً کہا کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ خود ہی جج بن گئے اور بول رہے ہیں کہ اغوا میں سکیورٹی فورسز ملوث ہیں، میں اس بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد 76 ہزار سے تجاوز کر گئی
چند سوالات اور جوابات
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آپ یہاں سکیورٹی فورسز کی نمائندگی کرتے ہیں؟ جس پر سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ جی ہاں! میں نمائندگی کرتا ہوں۔
اجلاس کی ہدایت
اس کے بعد سینیٹر کامران مرتضیٰ اور انوار الحق کاکڑ کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی جس پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال ناصر نے انہیں ہدایت کی کہ دونوں رہنما چیئر کو مخاطب کرکے بات کریں۔








