کیا آئی ایم ایف کی 11 نئی شرائط سے عوام کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوگا؟
آئی ایم ایف کی نئی شرائط
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کے تحت پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد کی ہیں جن میں بجلی کے بلوں پر عائد ڈیٹ سروسنگ سرچارج میں اضافے، 3 سال سے زیادہ پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد پابندیاں ختم کرنے اور پارلیمنٹ سے آئی ایم ایف کے معاہدے کے مطابق بجٹ پاس کرانے سمیت دیگر شرائط شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جاپان، 30 سال کی سروس کے بعد بس ڈرائیور ایک غلطی سے 84 ہزار ڈالر کی پینشن سے محروم ہوگیا۔
معاشی تجزیہ کاروں کے خیالات
نجی سوشل میڈیا ویب سائٹ وی نیوز نے معاشی تجزیہ کاروں سے گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آئی ایم ایف کی 11 نئی شرائط سے کیا عوام کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوگا؟ ماہر معیشت ڈاکٹر خاقان نجیب نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات گزشتہ چند سالوں سے ایسے تھے کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہونا ضروری تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کے بعد پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف ایک آئی سی یو کا ڈاکٹر ہے اور پاکستان کو اپنی 77 سالہ تاریخ میں 24ویں مرتبہ اس ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بسنت کے دوران موٹرسائیکل بند، شہری فری ٹرانسپورٹ استعمال کریں: مریم اورنگزیب
ٹیکس میں اضافہ اور کسانوں کی مشکلات
ڈاکٹر خاقان نجیب نے کہا کہ آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ صوبائی حکومتیں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زرعی آمدنی پر ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنائیں، جس سے کسانوں اور زمینداروں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔
آئندہ سال کے بجٹ میں آئی ایم ایف 500 ارب کے نئے ٹیکس کا نفاذ کرنے کا ہدف دے سکتا ہے، اور اس ہدف کے لئے حکومت تنخواہ دار طبقے کو کسی قسم کا ریلیف نہیں دے سکے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکا: سمندری طوفان اور سیلاب سے ہلاکتیں 123 ہوگئیں
آئی ایم ایف کی شرائط کی تعداد میں اضافہ
ماہر معیشت شہباز رانا کے مطابق آئی ایم ایف نے 7 ارب ڈالر کے قرض کی قسط کے لئے پاکستان پر مزید 11 شرائط عائد کی ہیں، جس سے اب پاکستان پر کل شرائط کی تعداد 50 ہوگئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے صوبائی حکومتوں پر بھی ایک نئی شرط عائد کی ہے، جس کے تحت نئے زرعی انکم ٹیکس قوانین لاگو کئے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کا 30 نومبر کو ضلعی سطح پر یوم تاسیس منانے کا اعلان
توانائی کے شعبے میں شرائط
توانائی کے شعبے میں 4 نئی شرائط متعارف کرائی گئی ہیں۔ آئی ایم ایف نے یہ شرط بھی عائد کی ہے کہ پاکستان 2035 تک سپیشل ٹیکنالوجی زونز اور دیگر صنعتی پارکس اور زونز کے حوالے سے تمام مراعات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے کی گئی سٹڈی کی بنیاد پر ایک منصوبہ تیار کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف واٹر کینن کا بار بار استعمال نہایت قابلِ مذمت اور بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، ایمان مزاری
نئی گاڑیوں کی درآمد میں آسانی
آئی ایم ایف نے ایک اور شرط میں ہدف دیا ہے کہ استعمال شدہ موٹر گاڑیوں کی تجارتی آمد پر عائد تمام پیداواری پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے مطلوبہ قانون سازی پارلیمنٹ میں کی جائے گی۔ ان پابندیوں کے ہٹانے سے لوگوں کی گاڑیاں خریدنے کی سکت بڑھ جائے گی۔
آئی ایم ایف کی پہلے کی شرائط میں ایڈجسٹمنٹ
شہباز رانا کے مطابق نئی شرائط عائد کرنے کے علاوہ، آئی ایم ایف نے پہلے کی شرائط میں بھی ایڈجسٹمنٹ کی ہے۔ پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے دسمبر 2024 کے آخر تک 7 شرائط کے ساتھ کارکردگی کے معیار کو پورا کیا ہے۔








