پی ٹی آئی تحریک عدم اعتماد لارہی ہے تو ضرور لائے، سو بسم اللّٰہ لیکن’’۔۔۔ خواجہ آصف نے تحریک انصاف کو ’’مشورہ‘‘ دیدیا
خواجہ آصف کا پی ٹی آئی کو مشورہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر پی ٹی آئی تحریک عدم اعتماد لارہی ہے تو ضرور لائے، سو بسم اللّٰہ، میرا پی ٹی آئی کو مشورہ ہے کہ عدم اعتماد نہ لائے، جو رہا سہا بھرم ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: صوبائی ایکریڈیٹیشن کمیٹی کا اجلاس، تمام کارڈز کی تفصیل ڈی جی پی آر کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے: غلام صغیر شاہد
تحریک عدم اعتماد کی صورت میں پی ٹی آئی کی حیثیت
پارلیمنٹ ہاؤس میں’’ جیونیوز‘‘ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اپوزیشن حکومت یا سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانا چاہتی ہے تو لے آئے، یہ تحریک عدم اعتماد لے کر آئیں ان کی اوقات سامنے آجائے گی۔ اس وقت ان کی سیاست کا جو تھوڑا بہت سیاسی بھرم ہے وہ بھی سامنے آجائے گا، اس حرکت سے ان کے کپڑے اتر جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ 9 مئی، ملٹری کورٹس نے ملزمان کو سزائیں سنا دیں
اسد قیصر کی مثال
تین ساڑھے تین سال اسد قیصر بھی اس اسمبلی کے سپیکر رہے ہیں۔ ان تین ساڑھے تین سال میں جو اسمبلی کے ساتھ ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اگر موجودہ سپیکر کے خلاف تحریک لائی جا سکتی ہے تو اسد قیصر کے خلاف 100 بار لانی چاہیے تھی جب وہ سپیکر تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود ہماری ترجیح ہے: وزیراعظم
وزیر دفاع کی سیاسی صورتحال پر تبصرہ
وزیر دفاع نے کہا کہ اُس وقت اسد قیصر بانی پی ٹی آئی کے ذاتی ملازم بنے پھرتے تھے۔ کیا وجہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو کوئی ریلیف دیا جائے؟ اس وقت ایک ہائبرڈ ماڈل اللّٰہ پاک کے فضل و کرم سے سرخرو ہوا ہے، سیاسی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں اس وقت آئیڈیل کوآپریشن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات جاری ہیں: اویس لغاری
اقتصادی صورتحال کی بہتری
یہ سلسلہ پچھلے دو ڈھائی سال سے چل رہا ہے، اس باہمی تعاون سے ہم اپنی خراب معیشیت پر اچھے انداز میں قابو پا رہے ہیں۔ ساری دنیا اس وقت تعریف کر رہی ہے کہ پاکستان معاشی ریکوری کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وقت رضوان کے ہاتھوں سے پھسل چکا ہے
بھارت کے خلاف کامیابی
خواجہ آصف نے کہا کہ 14 اگست 1947 کے بعد یہ سب سے مبارک دن تھے جس دن ہم نے بھارت پر فتح حاصل کی۔ آپریشن بنیان مرصوص میں پوری قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح افواج کے ساتھ کھڑی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ غیرمستحکم خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتا ہے، وزیراعظم کی اسرائیلی حملے کی شدید مذمت
افغانستان کے ساتھ تعلقات کی وضاحت
ہم نے افغانستان کیلئے 2 جنگیں لڑیں جو تاریخ کی فاش غلطیاں تھیں۔ ہمارے ہمسائے کی نسبت تعلقات کو اچھا رہنا چاہیے، ہم کیسے ان کو دوست کہہ سکتے ہیں جب ان کی سرزمین ہمارے دشمنوں کی آماجگاہ بن جائے؟
یہ بھی پڑھیں: رائٹ سائزنگ، پاکستان پوسٹ آفس میں کتنی پوسٹیں ختم کر دی گئیں ۔۔؟ جانیے
اپوزیشن کے دعوؤں کا جواب
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جنگی سلسلہ شروع ہوا تو اپوزیشن لیڈر کہتے ہیں کہ ہمارے پاس شیل ہی نہیں، ہم نے یوکرین کو دیدئیے۔ جنگ بھی ہوئی ہے، جہاز بھی اڑے ہیں اور الحمداللّٰہ ہم نے ان کے 6 جہازوں کو گرایا بھی ہے۔
ایکسپورٹر ہونے کا دعوی
وزیر دفاع نے کہا کہ ہم ایکسپورٹر ہیں بلکہ بہت بڑے ایمونیشن کے ایکسپورٹر ہیں۔ دنیا میں کسی کے پاس امونیشن اتنا اسپیئر نہیں جتنا ہمارے پاس ہے۔








