ٹرمپ کا بڑا بل منظور، امریکہ میں مقیم لاکھوں بھارتیوں کو اربوں کے نقصان کا خدشہ
نیویارک میں بجٹ کمیٹی کی منظوری
نیویارک (ویب ڈیسک) امریکی ایوان نمائندگان کی بجٹ کمیٹی نے اتوار کی رات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بل ”ون بِگ بیوٹی فل بل ایکٹ“ کو معمولی اکثریت سے منظور کر لیا، جس کے بعد یہ قانون سازی اب ایوان میں حتمی ووٹنگ کے لیے پیش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود اچکزئی کا 27 ویں ترمیم پر تمام سیاسی قائدین کو خط لکھنے کا فیصلہ
تارکین وطن پر نیا ٹیکس
نجی ٹی وی آج نیوز کے مطابق بل کے تحت امریکہ میں مقیم بھارتی شہریوں اور غیر مقیم بھارتیوں (NRIs) کی طرف سے اپنے وطن بھارت رقم بھیجنے پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا، جس سے لاکھوں بھارتیوں کو مالی جھٹکا لگنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آنر کا نیا سمارٹ فون نئے فیچرز کے ساتھ متعارف، قیمت کتنی ہے؟
ٹیکس کی وضاحت
اس قانون کے مطابق امریکہ میں مقیم وہ تمام غیر شہری، جن میں HB ویزا ہولڈرز، گرین کارڈ ہولڈرز اور دیگر نان امیگرنٹ ویزا رکھنے والے افراد شامل ہیں، جب بھی وہ بیرونِ ملک رقم بھیجیں گے تو کل رقم پر 5 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ حیران کن طور پر، اس مجوزہ ٹیکس کے لیے کوئی کم از کم حد مقرر نہیں کی گئی، یعنی چھوٹی سے چھوٹی ترسیلات پر بھی یہ قانون لاگو ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم؛ جسٹس صلاح الدین پنہور کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط، فل کورٹ بلانے کا مطالبہ
امریکی شہریوں کے لیے استثنیٰ
بل میں وضاحت کی گئی ہے کہ صرف تصدیق شدہ امریکی شہریوں کو اس ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہوگا، یعنی اگر رقم بھیجنے والا امریکی شہری ہے تو اس پر یہ قانون لاگو نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور راولپنڈی میں 3 دن کی شاندار تعطیلات کا اعلان
ہندوستانی کمیونٹی پر اثرات
امریکی مردم شماری اور بھارتی مالیاتی ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں مقیم 45 لاکھ بھارتی نژاد افراد میں سے 32 لاکھ کے قریب غیر مقیم بھارتی ہیں جو اپنے وطن رقم بھیجتے ہیں۔ سال 2023-24 میں بھارت کو موصول ہونے والی مجموعی ترسیلات 118.7 ارب ڈالر تھیں، جن میں سے 28 فیصد یعنی 32 ارب ڈالر صرف امریکہ سے آئے۔ اگر یہ قانون نافذ ہو جاتا ہے تو بھارتی کمیونٹی کو صرف اس ٹیکس کی مد میں سالانہ 1.6 ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی اے لاپتا کیس نیا رُخ اختیار کرگیا، سماعت میں حیران کن انکشافات
سرمایہ کاری پر بھی اثر
یہ ٹیکس صرف ترسیلاتِ زر تک محدود نہیں بلکہ سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدن اور اسٹاک آپشنز کے منافع پر بھی لاگو ہوگا — ایسے ذرائع جو اکثر غیر مقیم بھارتی اپنے اہل خانہ کو سپورٹ کرنے یا بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کا اجلاس بھی طلب، اپوزیشن نے اہم فیصلہ کر لیا
امیگریشن کے نئے قوانین
یہ قانون صرف مالی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے ذریعے امیگریشن پالیسی میں بھی سخت تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینئر صحافی ثناء اللہ نے اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں تین سالوں کے دوران اضافے کی تفصیل بتا کر وزیراعظم کے کوآرڈینٹر رانا احسان افضل کو لا جواب کر دیا
ٹرمپ کی سرحدی دیوار کا منصوبہ
بل کے تحت میکسیکو سرحد پر ٹرمپ کی دیوار کی بحالی کے لیے 46.5 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں، 3,000 نئے بارڈر پیٹرول ایجنٹس اور 5,000 کسٹمز افسران کی بھرتی کی جائے گی، امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے لیے 10,000 نئے افسران اور تفتیش کار بھرتی کئے جائیں گے، 2.1 ارب ڈالر بونس کی مد میں دئے جائیں گے اور 1,000 ڈالر فیس سیاسی پناہ کے متلاشیوں پر عائد کی جائے گی جو کہ امریکہ کی تاریخ میں پہلی بار ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: دروازہ بند کروا کر فیصلہ سناتا ہوں، موت کی سزا کا سن کر بڑے بڑے بدمعاش اور قاتلوں کے رنگ اڑ جاتے ہیں، یوں لگتا ہے جیسے جسم میں خون ہی نہیں رہا۔
ٹرمپ کا تارکین وطن کی پالیسی
ٹرمپ کے منصوبے کے مطابق، ہر سال 10 لاکھ تارکین وطن کو ملک بدر کیا جائے گا، جبکہ 1 لاکھ افراد کو حراستی مراکز میں رکھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: موبائل فون پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز کون سا ادارہ وصول کرتا ہے؟
بل کی منظوریدگی
جمعہ کو بجٹ کمیٹی کے چند ارکان نے ٹرمپ اور ریپبلکن قیادت کے خلاف جاتے ہوئے اس بل کو روکنے کی کوشش کی تھی، تاہم اتوار کو ہونے والی رائے شماری میں بل کو صرف ایک ووٹ کے فرق سے منظور کر لیا گیا۔
قانون کی ممکنہ نتائج
یہ قانون نہ صرف لاکھوں بھارتیوں کے لیے مالیاتی بحران پیدا کر سکتا ہے بلکہ امریکی امیگریشن پالیسی کو بھی عالمی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنا سکتا ہے۔ اگر بل حتمی منظوری حاصل کر لیتا ہے تو امریکہ میں رہنے والے بھارتیوں کے لیے اپنے وطن سے تعلق برقرار رکھنا نہایت مہنگا ثابت ہوگا۔








