مخالفین کو جعلی مقدمے میں پھنسانے کے لیے بیٹی سے زیادتی کا الزام لگانے والا باپ گرفتار
پولیس کی کارروائی
سرگودھا (ڈیلی پاکستان آن لائن) پولیس نے مخالفین کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کےلیے بیٹی کے اغوا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کروانے والے باپ کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: فی تولہ سونا مزید کتنا مہنگا ہونے کا امکان ہے؟
مقدمے کی تفصیلات
جیو نیوز کے مطابق سرگودھا کے نواحی گاؤں چک 29 جنوبی کے رہائشی یاسین نے رواں سال 12 فروری کو تھانہ کڑانہ میں مقدمہ درج کرواتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ اس کی 18 سالہ بیٹی کو 3 افراد نے اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی چوروں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ
تحقیقات کا آغاز
پولیس کے مطابق یاسین اور اس کی بیٹی کے بیان پر 3 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل کروا کے ڈی این اے ٹیسٹ لاہور لیبارٹری کو بھیج دیا گیا تھا جس کی رپورٹ آنا ابھی باقی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: دورۂ چین کا تیسرا روز، وزیر اعلیٰ مریم نواز کی شنگھائی میں چینی حکام سے ملاقاتیں، پنجاب میں سولر پینل مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے کی پیشکش
جھوٹ کا پردہ چاک
پولیس کا کہنا ہے کہ جب تھانہ کڑانہ کی پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ یاسین نے اپنے مخالفین کو بیٹی کے اغوا اور زیادتی کے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لیے سارا ڈرامہ رچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے: عظمیٰ بخاری
لڑکی کا اعتراف
پولیس کے مطابق لڑکی نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اسے نہ تو کسی نے اغوا کیا اور نہ ہی اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔
گرفتاری اور آئندہ کی کارروائی
پولیس نے یاسین کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جبکہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد صہیب اشرف کا کہنا تھا کہ قانون کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ بےگناہوں کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔








