مخالفین کو جعلی مقدمے میں پھنسانے کے لیے بیٹی سے زیادتی کا الزام لگانے والا باپ گرفتار
پولیس کی کارروائی
سرگودھا (ڈیلی پاکستان آن لائن) پولیس نے مخالفین کو جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کےلیے بیٹی کے اغوا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کروانے والے باپ کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد خاقان عباسی نے 26ویں آئینی ترمیم سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کردی
مقدمے کی تفصیلات
جیو نیوز کے مطابق سرگودھا کے نواحی گاؤں چک 29 جنوبی کے رہائشی یاسین نے رواں سال 12 فروری کو تھانہ کڑانہ میں مقدمہ درج کرواتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ اس کی 18 سالہ بیٹی کو 3 افراد نے اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: صرف پنجاب میں 46لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، بحالی تک کام جاری رکھیں گے :الخدمت فاؤنڈیشن
تحقیقات کا آغاز
پولیس کے مطابق یاسین اور اس کی بیٹی کے بیان پر 3 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل کروا کے ڈی این اے ٹیسٹ لاہور لیبارٹری کو بھیج دیا گیا تھا جس کی رپورٹ آنا ابھی باقی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: 2025ء کی آخری قومی انسدادِ پولیو مہم کا کل سے باقاعدہ آغاز ہوگا
جھوٹ کا پردہ چاک
پولیس کا کہنا ہے کہ جب تھانہ کڑانہ کی پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش کی تو پتہ چلا کہ یاسین نے اپنے مخالفین کو بیٹی کے اغوا اور زیادتی کے جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کے لیے سارا ڈرامہ رچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گجرات: اشتہاری ملزمان کی فائرنگ سے ایلیٹ فورس کا جوان شہید
لڑکی کا اعتراف
پولیس کے مطابق لڑکی نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اسے نہ تو کسی نے اغوا کیا اور نہ ہی اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔
گرفتاری اور آئندہ کی کارروائی
پولیس نے یاسین کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جبکہ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد صہیب اشرف کا کہنا تھا کہ قانون کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ بےگناہوں کو انصاف اور تحفظ فراہم کیا جا سکے۔








