سعودی عرب میں تعمیراتی منصوبوں کا حجم 1.5 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا، کیا کچھ بنایا جا رہا ہے؟

سعودی عرب: تعمیراتی منصوبوں کا مرکز
ریاض (ڈیلی پاکستان آن لائن) سعودی عرب دنیا بھر میں سب سے بڑے تعمیراتی منصوبوں کا مرکز بنتا جا رہا ہے، جہاں اس وقت 1.5 ٹریلین ڈالر سے زائد کے ترقیاتی اور میگا پراجیکٹس پر کام جاری ہے۔ العربیہ کے مطابق یہ پیش رفت وژن 2030 کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد معیشت کو تیل پر انحصار سے نکال کر مختلف شعبوں میں وسعت دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے ذریعے فساد کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی: عظمٰی بخاری
تعمیراتی شعبے میں تبدیلیاں
ورسیٹائل انٹرنیشنل کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا تعمیراتی شعبہ ایک بڑے تغیر سے گزر رہا ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کو مرکزی اہمیت دی جا رہی ہے۔ نیوم، درعیہ گیٹ، جدہ سینٹرل اور کنگ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ جیسے بڑے منصوبے اس تعمیراتی لہر کا حصہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اپنے حصے کی بہتری اگر سارے ہی سرکاری ملازمین کی سوچ بن جائے تو میں یقین سے کہتا ہوں معاشرے میں بڑی خوشگوار تبدیلی کا باعث ہو جائے
مصنوعی ذہانت کا کردار
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) تیزی سے اس شعبے کا لازمی جزو بنتی جا رہی ہے اور سعودی عرب میں 60 فیصد تعمیراتی ماہرین پہلے ہی اے آئی سے چلنے والے مینجمنٹ ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں تاکہ منصوبہ بندی، وسائل کی تقسیم اور وقت کی بچت میں بہتری لائی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کی کینال منصوبہ ختم کرنےکی پیشکش لیکن پیپلزپارٹی نے کیا جواب دیا؟ تہلکہ خیز دعویٰ
ماحولیاتی ذمہ داریاں
قومی ترقیاتی اہداف اور ماحولیاتی ذمہ داریوں کے تحت بڑے منصوبوں میں شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی، ماحول دوست تعمیراتی سامان، اور مقامی طور پر حاصل شدہ مواد کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ نیوم اس حوالے سے ایک نمایاں مثال ہے، جو جدت اور پائیداری کے امتزاج کے ساتھ ترقی پا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ملائیشین ہم منصب سے رابطہ، بھارتی اقدامات یکسر مسترد کر دیئے
مقامی افرادی قوت کی تربیت
سعودی حکومت مقامی افرادی قوت کی تربیت اور ملازمت کے مواقع بڑھانے پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہے، جس کے لیے بڑی تعمیراتی کمپنیاں مقامی تعلیمی اداروں سے تعاون کر رہی ہیں تاکہ نوجوانوں کو انجینئرنگ اور مینجمنٹ کے شعبوں میں تربیت دی جا سکے۔ تعمیراتی شعبے میں قیمتوں میں اضافے، ہنر مند مزدوروں کی کمی اور وقت پر تکمیل جیسے چیلنجز بھی موجود ہیں، تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اے آئی اور خودکار نظاموں کے استعمال سے ان مسائل پر قابو پایا جا رہا ہے۔
مستقبل کی توقعات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا تعمیراتی شعبہ نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر کے لیے ایک نیا معیار قائم کر رہا ہے، اور وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ ترقی کی رفتار میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے۔