پاکستان زندہ باد کے نعروں کی دنیا بھر میں گونج
تحریر کا پس منظر
تحریر: وقار ملک
یہ بھی پڑھیں: محبت اور احترام کے ساتھ عالمی روابط، عالمی بزنس، ثقافتی اور ہارس ہیلنگ سمرٹ دسمبر 2025 میں دمام میں منعقد ہوگا
کنونشن کا اثر
15 اپریل کو اورسیز کنونشن اسلام آباد میں سپہ سالار پاکستان جنرل عاصم منیر نے جس دلیرانہ انداز میں پاکستان کے دشمنوں کو للکار کر پاکستانیت کا جذبہ معطر و موجزن کیا اور پاکستانیوں کا خون گرمایا، اس کے بعد دشمن کی چیخیں نکلنا تو ضروری تھا۔ اس کنونشن کے بعد پوری قوم دشمن کی جارحیت کیخلاف بنیان مرصوص کی مانند کھڑی رہی۔ مسلح افواج نے بھارتی اشتعال انگیزی کا پیشہ ورانہ انداز میں بھرپور قوت سے جواب دیا ہے۔ دنیا نے پاکستان کے صبر و تحمل کا اعتراف کیا اور ہماری عملی مہارت کو تسلیم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوان افسران دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت اور وطن سے خلوص کے اعلیٰ ترین معیارات کو اپنائیں: فیلڈ مارشل
پاکستان کی خودمختاری
پاکستان ایک پرامن ملک ہے لیکن کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتے، تاہم پاکستان اپنی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ ہماری سرزمین کے خلاف کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جانا چاہئے۔ پاکستان سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی مسترد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سی ایم کمپلینٹ سیل کا انچارج بن کر سرکاری افسروں کو بلیک میل کرنے والا نوسرباز گرفتار
قوم کا اتحاد
دنیا بھر میں پاکستان کی فتح مبین پر یوم تشکر مناتے ہوئے پوری قوم، قومی سیاسی، عسکری قیادتوں اور مختلف مکاتب زندگی کی شخصیات نے جہاں شکرانے کے طور پر خدا کے حضور سر جھکایا ہے، وہیں تزک و احتشام کے ساتھ یوم تشکر کا اہتمام کرکے پوری دنیا بالخصوص اپنے دشمن کو یہ ٹھوس پیغام بھی دیا ہے کہ ملک کی آزادی، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کیلئے بلاامتیاز پوری قوم یکجہت و یکجان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں عید الاضحیٰ کب ہوگی؟
بھارتی سازشیں
ہمارے مکار دشمن بھارت کو جہاں اپنی عسکری طاقت کا زعم تھا، وہیں اسے یہ گمان بھی تھا کہ پاکستان کے اندرونی مسائل، اس کی کمزوریوں اور پیدا شدہ سیاسی عدم استحکام سے فائدہ اٹھانے کا یہ نادر موقع ہے۔ مودی سرکار نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کا ڈرامہ رچایا اور اپنے رافیل جہازوں کی قوت کو پاکستان کے خلاف آزمانے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملٹری کورٹ سے سزا کیخلاف اپیل ؛لاہور ہائیکورٹ کی وفاقی سیکرٹری قانون کو معاملہ کابینہ میں پیش کرنے کیلئے 10دن کی مہلت
پاکستان کی ایٹمی قوت
یہ قدرت کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہماری سلامتی کے خلاف بھارتی سازشوں کے مؤثر توڑ کیلئے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی امنگ ہماری حکومتی سیاسی قیادتوں کے ذہنوں میں پیدا کی۔ 1971 کے سانحہ سقوط ڈھاکہ کے بعد بھارت نے باقیماندہ پاکستان کی سلامتی بھی تاراج کرنے کی نیت سے خود کو ایٹمی طاقت بنایا، تو پاکستان نے بھی ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کا عزم باندھ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کی بڑی کامیابی، بھارت نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آ گئی
نئی حکمت عملی
پاکستان کو چاہئے کہ بین الاقوامی سطح پر لابنگ کا آغاز کرے اور وفود بیرون ممالک بھیجے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کا چہرہ بے نقاب کیا جائے اور دنیا بھر بالخصوص یورپیئن یونین میں پاکستان کا چہرہ اجاگر کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلی پنجاب کا صوبائی وزیر ملک صہیب بھرتھ کے چچا ملک امتیاز بھرتھ کے انتقال پر اظہار افسوس
قوم کا عزم
آج قوم اپنی فوج کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہے اور اپنے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کو اپنا مسیحا سمجھ چکی ہے۔ اب قوم اتحاد پیدا کرے، متحرک ہو اور منظم ہو تاکہ پاکستان کی ترقی کا خواب پورا کیا جا سکے۔
نوٹ
یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








