قومی بچت سکیموں کی شرح منافع میں کمی
ملک میں افراطِ زر کی شرح میں کمی کا اثر
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) - ملک میں افراطِ زر کی شرح میں حالیہ کمی کے بعد ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز نے قومی بچت کی مختلف سکیمز پر منافع کی شرح میں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرح کا اطلاق 21 مئی 2025 سے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: مذاکرات کا ماحول نظر نہیں آ رہا، جسے اصولوں پر بات کرنی ہے وہ ہم سے بات کرے، سلمان اکرم راجا
منافع کی فیصد میں تبدیلی
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق، ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ منافع کی شرح میں ایک فیصد تک کمی کی گئی ہے، جس کا اطلاق مختلف سیونگز سکیمز پر علیحدہ علیحدہ شرح سے ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: جدہ میں افطار ڈنر، رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا انعام ہے، عبدالرؤف لک
مختلف سکیمز پر منافع کی شرح
تفصیلات کے مطابق، سیونگ اکاؤنٹ پر منافع کی شرح ایک فیصد کمی کے بعد اب 9.5 فیصد ہوگی اور سپیشل سیونگز سرٹیفکیٹس پر منافع میں 30 بیسز پوائنٹس کمی کر کے 10.9 فیصد کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مظفر آباد کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
ریگولر انکم اور دیگر سکیمز
اسی طرح رولر انکم سرٹیفکیٹس پر منافع 18 بیسز پوائنٹس کم کر کے 11.52 فیصد، جبکہ ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس کی منافع کی شرح 21 بیسز پوائنٹس کمی سے 11.91 فیصد ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ریلوے افسران کے غیر ملکی دورے ختم، اب سیلون کسی کو مفت نہیں ملے گا: حنیف عباسی
بہبود سیونگز اور دیگر اکاؤنٹس
بہبود سیونگز سرٹیفکیٹس، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہداء فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ پر منافع 24 بیسز پوائنٹس کمی کے بعد اب 13.4 فیصد دیا جائے گا۔
اقتصادی ماہرین کی رائے
حکام کا کہنا ہے کہ افراط زر کی موجودہ رفتار اور مالیاتی پالیسی کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق اس اقدام کا مقصد مہنگائی کے دباؤ کو کنٹرول میں رکھنے کے ساتھ ساتھ معیشت میں توازن پیدا کرنا ہے۔








