بجلی چوروں کے خلاف بڑی کارروائی، جلدو میں لیسکو ٹیم پر حملہ، غنڈہ عناصر کے حملے ناقابل قبول ہیں: سی ای او لیسکو

بجلی چوری کی بڑی کارروائی
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایس ڈی او صوفیا آباد نے بجلی چوری کی بڑی کارروائی کرتے ہوئے لاکھوں روپے کی چوری پکڑ لی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 213 عمرکوٹ میں ضمنی الیکشن کیلئے پولنگ کا آغاز، سخت سکیورٹی انتظامات
چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن
تفصیلات کے مطابق، چیف ایگزیکٹو لیسکو، انجینئر محمد رمضان بٹ کے احکامات پر ریجن بھر میں بجلی چوروں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایس ڈی او صوفیا آباد نے ایکسیئن کوٹ لکھپت، امجد ناگرہ کی سربراہی میں چیکنگ آپریشن کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سٹار کرکٹر بابراعظم آسٹریلین ٹی ٹوئنٹی لیگ بیگ بیش کا حصہ بن گئے
بوگس میٹر کے ذریعے چوری
دوران آپریشن یہ انکشاف ہوا کہ ملزم نے بوگس میٹر کے ذریعے بجلی چوری کی تھی۔ چوری کی بجلی سے تین ایمبroidery مشینیں چلائی جا رہی تھیں، جس کی وجہ سے لیسکو کو 15 ہزار یونٹس کا نقصان ہوا۔ مذکورہ نقصان کی مالیت 12 لاکھ روپے بنتی ہے۔ ملزم کے خلاف مقدمہ کی درخواست دائر کردی گئی ہے، اور ڈٹیکشن بل چارج کرنے کے لیے بھی کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت
جلو میں لیسکو ٹیم پر حملہ
دوسری جانب، جلو کے علاقے میں بجلی چوروں نے لیسکو ٹیم پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں لیسکو اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔ صحافی کالونی سب ڈویژن کی ٹیم جلو کے علاقے میں آپریشن کر رہی تھی کہ اس دوران انکشاف ہوا کہ محمد افضل نامی ملزم لیسکو کی ٹرانسمیشن لائن سے کنڈا لگا کر بجلی چوری کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بارک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی پر کیا کہا؟
زخمی اہلکار اور فوری ہسپتال منتقلی
لیسکو کی جانب سے غیر قانونی کنکشن کاٹنے کی کوشش پر ملزم نے اپنے بیٹوں، شیر علی، حارث اور اشفاق کے ہمراہ لیسکو ٹیم پر حملہ کردیا۔ ملزمان نے آہنی راڈ اور کلہاڑی کے وار سے لیسکو کے اہلکار ناصر مقصود اور ندیم کو شدید زخمی کردیا، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔
چیف ایگزیکٹو کا زخمیوں سے ملاقات
واقعے کی اطلاع ملتے ہی چیف ایگزیکٹو لیسکو، انجینئر رمضان بٹ زخمیوں کی عیادت کے لیے پہنچ گئے۔ انہوں نے زخمیوں کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ غنڈہ عناصر کی جانب سے لیسکو اہلکاروں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔ ملزمان کو ہر صورت میں کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔