جب ندا یاسر امتحان میں نقل کرتی پکڑی گئی تھیں؛ مارننگ شو میں خود ہی پوری کہانی سنا دی

ندا یاسر کی سوشل میڈیا پر مقبولیت
کراچی (ویب ڈیسک) معروف میزبان اور اداکارہ نِدا یاسر سوشل میڈیا پر کسی نہ کسی موضوع پر زیر بحث رہتی ہیں۔ جہاں ان پر تنقید کرنے والوں کی کمی نہیں، وہیں ان کو پسند کرنے والوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان بار کونسل، بلوچستان ہائیکورٹ بار نے بھی 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائرکردیں
صبح کی شو میں تنقید
ایکسپریس نیوز کے مطابق گزشتہ 15 برسوں سے مارننگ شو کی سب سے کامیاب میزبان ندا یاسر پر اس بار تنقید مارننگ شو میں نقل پر کی گئی گفتگو پر ہو رہی ہے۔ اس پروگرام میں ندا یاسر نے اپنی زندگی کے ایک مزاحیہ مگر سبق آموز واقعے کا انکشاف کیا۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے بہت بےوقوفی کا کام کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کمزور کنٹرول میں کچھ نہیں، عمران خان جیل میں رہ کر بھی بہت زیادہ مضبوط ہیں: عمر چیمہ نے کھری کھری سنا دیں
نقل کا واقعہ
ندا یاسر نے مزید بتایا کہ میں نے پاکستان اسٹڈیز کے ٹیسٹ میں نقل کے لیے ایک لمبا پرچہ بنایا لیکن اسے استعمال نہ کر سکی کیونکہ استاد میرے قریب کھڑے تھے۔ اداکارہ نے مزید کہا کہ میں نے پریشانی اور الجھن میں نقل کا وہ پرچہ اپنی کاپی میں ہی رکھ دیا، جو استاد کو مل گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فتنہ الخوارج پی ٹی آئی کے احتجاج میں دہشتگردی کرسکتی ہے، نیکٹا کا تھریٹ الرٹ جاری
اساتذہ کی سرزنش
ندا یاسر کے بقول، میرے ٹیچر نے وہ پرچہ پوری کلاس کو دکھاتے ہوئے کہا کہ تمہیں تو صحیح سے نقل کرنی بھی نہیں آتی۔ اداکارہ اور میزبان ندا یاسر نے مزید بتایا کہ بعد میں سالانہ امتحان میں یاد کیے گئے اہم سوالات میں سے کوئی نہیں آیا۔ میں باہر گئی، حل شدہ پانچ سالہ کتاب لے کر آئی اور نقل کی کوشش کی مگر استاد نے پھر پکڑ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: سرحد عبور کرنے پر بھارتی فوجی اہلکار کو پاکستان رینجرز نے گرفتار کرلیا
تعلیمی نظام پر تنقید
ندا یاسر نے بتایا کہ ٹیچر نے مجھے خوب ڈانٹا اور امتحان دینے سے بھی روک دیا۔ آخر میں جو یاد تھا وہی لکھا۔ ندا یاسر کی اس ویڈیو پر صارفین نے شدید تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ نقل کی کھلے عام بات کرنا ہمارے تعلیمی نظام کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے۔
صارفین کی رائے
ایک صارف نے لکھا کہ ٹی وی پر کھلے عام نقل کے قصے سنانا کوئی اچھی بات نہیں۔