مودی کے اندازے غلط، پاکستان کو واضح برتری ملی: جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی رپورٹ کا اجرا
پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ
پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ نے 16 گھنٹوں کے اندر جنوبی ایشیا کی تاریخی تبدیلی پر رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کا اجراء سینیٹر مشاہد حسین سید نے کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف شرائط کو پورا کرنے کیلئے پنجاب میں زرعی سپر ٹیکس لگانے کا فیصلہ
رپورٹ میں تجویز کردہ حکمت عملی
رپورٹ میں تین نکاتی جامع حکمت عملی پیش کی گئی ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ مودی کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ پاکستان کو واضح برتری حاصل ہوئی ہے مگر پاک بھارت جنگ غیر ممکن ہے کیونکہ دفاعی طاقت کا توازن بحال ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر کا ایران، اسرائیل تنازعہ ختم کرنے کے لیے یورپی اتحادیوں کے ساتھ مل کر سفارتی تجویز پیش کرنے کا اعلان
10 مئی کی فتح
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 10 مئی کی فتح پاکستان کے لیے شاندار لمحہ ہے۔ متحرک سفارت کاری کی ضرورت ہے اور جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ سٹریٹیجک تعلقات کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خالد مقبول صدیقی ناراض، حکومت چھوڑنے کا اشارہ دیدیا
پاک بھارت تعلقات
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کے آر ایس ایس ہندو توہ نظام کو مغرب کی بین الاقوامی عدالتوں میں لے جانے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 9ویں چین-جنوبی ایشیا نمائش، 73 ممالک کے نمائندوں کی شرکت، پاکستانی مصنوعات کی بھرپور پذیرائی
امن و استحکام کی کوششیں
جنوبی ایشیا میں بلینس آف ٹیرر کا ماڈل مؤثر طریقے سے بھارتی جارحیت کو روکنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام بھی برقرار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کا جعلی اور اسلام آباد پولیس کا برطرف اہلکار اغوا ءبرائے تاوان میں ملوث نکلا
ٹائم لائن اور بین الاقوامی آرا
رپورٹ میں 22 اپریل کے پہلگام واقعے کے بعد کے واقعات کی ٹائم لائن فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پاک بھارت کشیدگی پر بین الاقوامی آرا شامل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ کی ترکیہ میں مشق ماوی بلینہ (MAVI BALINA) 2024 میں شرکت
پاک فضائیہ کا کردار
سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاک فضائیہ کے پائلٹس کی پیشہ ورانہ مہارت اور تربیت نے برتری حاصل کی۔ الیکٹرانک وارفیئر اور سائبر میدان میں بھی پاکستان کی برتری ثابت ہوئی ہے۔
چین کا کردار
سینیٹر نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے اپنی دفاعی طاقت کا توازن بحال کر لیا ہے اور چین اب کشمیر کے مسئلے پر عملی طور پر ایک فریق بن چکا ہے۔








