شکار پور میں 3 سالہ بچی کے ساتھ مبینہ اجتماعی زیادتی کا ہولناک واقعہ
شکارپور میں اجتماعی جنسی زیادتی کا واقعہ
شکار پور (ڈیلی پاکستان آن لائن) میں 13 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے، جس میں ایک پولیس افسر کا بیٹا بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بزنس کونسل دبئی کا وفاقی وزیر احسن اقبال چوہدری کے ساتھ انٹرا یکٹو سیشن، اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل سے آگاہ کیا گیا
واقعے کی تفصیلات
رپورٹ کے مطابق، شکارپور کے صدر محلے کی رہائشی ایک 13 سالہ لڑکی کو اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی طبی معائنے میں ڈاکٹرز نے زیادتی کی تصدیق کی ہے اور پولیس نے دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا سعودی شہزاد فہد بن مقرن بن عبدالعزیز کی والدہ کے انتقال پر اظہار افسوس
ملزمان کی شناخت
ایس ایس پی شاہ زیب چاچڑ نے کہا کہ زیادتی کرنے والوں کی شناخت تنویر جعفری اور جواد ہکڑو کے نام سے ہوئی ہے، جن میں سے ایک ملزم تنویر جعفری پولیس اے ایس آئی کا بیٹا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: صلح کیلئے بلائی گئی پنچایت میں جھگڑا ، ایک شخص ہلاک
متاثرہ لڑکی کا بیان
متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ وہ چیک اپ کے لیے نجی کلینک گئی تھی، جہاں اس کے ساتھ نشہ آور چیز ملا کر اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی۔ زیادتی کے بعد متاثرہ لڑکی کو وڈیو بنا کر بلیک میل کیا گیا اور دو ماہ تک جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔
یہ بھی پڑھیں: میجر معیز شہید نے ابھینندن کی گرفتاری سے متعلق کیا بتایا تھا؟
خاندان کی درخواست
جب بلیک میلنگ اور زیادتی کی وارداتیں بڑھ گئیں تو لڑکی نے اپنے خاندان کو بتایا، جس کے بعد یہ معاملہ منظر عام پر آیا۔ متاثرہ خاندان نے حکام سے فوری انصاف کی اپیل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جامعہ کراچی میں پانی کی 84 انچ قطر کی مرکزی لائن پھٹ گئی، شہر کو فراہمی متاثر
معاشرتی ردعمل
معاشرتی اور انسانی حقوق کے حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور فوری انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر پولیس افسر کا بیٹا بھی ملوث ہے تو تحقیقات غیر جانبدار ہونی چاہئیں اور مجرموں کو سخت سزا دی جائے۔
پولیس کی کارروائیاں
پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔








