سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کو مہنگی پڑ سکتی ہے، عالمی جریدے نے خبردار کردیا
سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا خطرہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی جریدے نے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کو مہنگی پڑ سکتی ہے۔ عالمی میگزین دی ڈبلومیٹ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھارت کو مہنگی پڑ سکتی ہے، عالمی میگزین کے مطابق بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر معطل کرنے کا اقدام چین کو برہما پترا کا پانی روکنے پر مجبور کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر خیبرپختونخوا کا بشریٰ بی بی اور علیمہ خان کی رہائی پر تحفظات کا اظہار
بھارت کے پانی کی صورتحال
رپورٹ کے مطابق براہما پترا دریا کا پانی بھارت کے تازہ پانی کا تقریباً 30 فیصد بنتا ہے، اس کے علاوہ اس دریا سے آنے والا پانی بھارت کی مجموعی پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا 44 فیصد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم اورنگزیب کا بھیس بدل کر جنرل ہسپتال لاہور کا دورہ
چین کے اقدامات
دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ کے مطابق چین براہما پترا پر بڑے ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کمانڈر ترک فضائیہ کی وفد کے ہمراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات
ورلڈ بینک کا مؤقف
یاد رہے کہ اس سے قبل ورلڈ بینک نے واضح کیا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جاسکتا۔ ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے سی این بی سی کو حالیہ انٹرویو میں واضح کیا کہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کی کوئی شق اس میں شامل نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جسٹن بیبر کی اہلیہ کا 3 سال قبل شروع کیا گیا میک اپ برانڈ ایک ارب ڈالر میں فروخت
معاہدے کی منسوخی کی شرائط
صدر ورلڈ بینک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کو دونوں فریقین کی مرضی سے ختم یا اس میں کوئی ترمیم کی جاسکتی ہے، سندھ طاس معاہدے میں عالمی بینک کا کردار بنیادی طور پر سہولت کار کا ہے۔
بین الاقوامی قوانین اور بھارت کے عزائم
دفاعی ماہرین نے کہا کہ ورلڈ بینک کے صدر کا سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے حالیہ انٹرویو ثابت کرتا ہے کہ بھارت یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا، سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ دفاعی ماہرین نے کہا کہ ورلڈ بینک کے واضح مؤقف کے بعد بھارتی مکروہ عزائم بری طرح ناکام ہو چکے ہیں。








