دھماکہ خیز اور زہریلے مواد سے بھرے بحری جہاز بھارتی بندرگاہ کے قریب الٹ گیا، کنٹینرز ساحل کی طرف آنا شروع، الرٹ جاری
کیرالا کے ساحل پر جہاز ڈوبنے کا واقعہ
نئی دہلی (وییب ڈیسک) بھارتی ریاست کیرالا کے ساحل کے قریب ڈوبنے والے لائبیریا کے کارگو جہاز سے وابستہ خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ جہاز کے کنٹینرز اب ساحل پر بہہ کر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ریاستی حکومت نے ممکنہ تیل کے اخراج اور خطرناک کیمیکل کے رساؤ کے خطرے کے پیش نظر ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی فیس 10 لاکھ روپے کرنے کے دعووں پر “بھائیو، کبھی پڑھ بھی لیا کرو” کا مشورہ
جہاز کا حادثہ
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ”MSC ELSA 3“ نامی کارگو جہاز میں شدید جھکاؤ (26 ڈگری اسٹار بورڈ لسٹ) پیدا ہوا، جس کے بعد ہفتے کے روز جہاز کے تمام 24 عملے کے افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ ان میں ایک روسی، 20 فلپائنی، دو یوکرینی اور ایک جارجیائی شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: رواں سال حج کا خطبہ کون دیں گے؟ سعودی حکومت نے اعلان کردیا۔
حفاظتی اقدامات
کیرالا حکومت نے فوری طور پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے کیونکہ جہاز میں خطرناک مواد، 84 میٹرک ٹن ڈیزل اور 367 میٹرک ٹن فرنس آئل موجود تھا۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جہاز پر کیلشیم کاربائیڈ بھی لدا ہوا تھا، جو سمندری پانی سے ردعمل دے کر ماحولیاتی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ حمیرا اصغر کا فٹنس انسٹرکٹر شامل تفتیش، کیس کی 4 پہلوؤں سے تحقیقات
ہوائی نگرانی
انڈین کوسٹ گارڈ نے بتایا کہ ان کے جدید آئل اسپل ڈیٹیکشن سسٹم سے لیس ہوائی جہاز مسلسل فضائی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ ”آئی سی جی ساکشَم“ نامی بحری جہاز ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے سازوسامان کے ساتھ جائے وقوعہ پر موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں زرعی خدمات: کاشتکاروں کی دہلیز پر پہنچانے کے لئے منفرد ایگریکلچر لیب آن ویل شروع کیا جائے گا
کنٹینرز کا بہنا
مقامی پولیس کے مطابق، کولم ضلع کے جنوبی ساحل پر جہاز کے کنٹینرز آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر کم از کم چار کنٹینرز کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے، تاہم حتمی تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔ حکام نے عوام کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی انجان چیز کو ہاتھ نہ لگائیں اور ساحلی علاقے سے دور رہیں۔
ماحولیاتی خطرات
یہ واقعہ بھارت کے ساحلی علاقوں کے لیے ایک بڑا ماحولیاتی خطرہ بن چکا ہے، جس پر کوسٹ گارڈ، نیوی اور ریاستی ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر تیل یا کیمیکل کا اخراج ہوا تو یہ ماحولیاتی نظام، سمندری حیات اور انسانی صحت کے لیے سنگین نتائج لا سکتا ہے۔








