پیوٹن سے خوش نہیں، پاگل ہوچکا، روس پر مزید پابندیاں لگائیں گے: ٹرمپ
صدر ٹرمپ کی پیوٹن پر تنقید
نیو جرسی (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ماسکو کے کیف پر اب تک کے سب سے بڑے حملے کے بعد کہا ہے کہ وہ روس کے ہم منصب ولادیمیر پیوٹن سے ’خوش نہیں‘ ہیں، انہوں نے پیوٹن کو ’پاگل‘ قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل نے آئی فون صارفین کے لیے وارننگ جاری کردی
ٹرمپ کا مذمتی بیان
غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے ایک مذمتی بیان میں کہا کہ: ’اسے کیا ہو گیا ہے؟ وہ بہت سے لوگوں کو مار رہا ہے‘ پیوٹن ’بالکل پاگل‘ ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں پاکستان کے جدید ترین ٹریفک سگنل لگا دیے گئے، ٹریفک کا کنٹرول پیدل چلنے والوں کے ہاتھ میں آگیا
صحافیوں سے گفتگو
نیو جرسی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ولادیمیر پیوٹن کے بارے میں کہا کہ: ’میں پیوٹن کو کافی عرصے سے جانتا ہوں، ہمیشہ اچھے تعلقات رہے لیکن اب وہ شہروں پر راکٹ برسا رہا ہے اور لوگوں کو مار رہا ہے اور مجھے یہ بالکل پسند نہیں ہے۔'
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد پریس کلب کے سامنے دھرنا دینے والوں نے قلات بس حملے میں شہید ہونے والوں کیلئے ایک لفظ نہیں کہا: جان اچکزئی
امریکی پابندیاں
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ روس پر امریکی پابندیاں بڑھانے پر غور کر رہے ہیں تو ٹرمپ نے جواب دیا: ’یقیناً‘۔ امریکی صدر اس سے پہلے بھی کئی بار روس کو پابندیوں میں اضافے کی دھمکی دے چکے ہیں لیکن اب تک ماسکو کے خلاف کوئی نئی پابندیاں نافذ نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: بین الاقوامی تنظیم برائے ثالثی (آئی اومیڈ) کا قیام تنازعات کے پرامن حل کیلئے انتہائی اہم ہے : ماہرین
ٹروتھ سوشل پر بیان
اس کے فوراً بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ: ’پیوٹن بالکل پاگل ہو چکا ہے، میں ہمیشہ کہتا رہا ہوں کہ وہ صرف یوکرین کا ایک حصہ نہیں بلکہ پورا ملک چاہتا ہے اور شاید یہ بات درست ثابت ہو رہی ہے لیکن اگر اس نے ایسا کیا تو یہ روس کے زوال کا باعث بنے گا۔'
زیلنسکی پر سخت الفاظ
امریکی صدر نے زیلنسکی پر بھی سخت الفاظ میں تنقید کی اور کہا کہ: ’وہ جس انداز میں بات کر رہا ہے وہ اپنے ملک کے حق میں نہیں ہے، زیلنسکی کے منہ سے نکلنے والی ہر بات مسائل پیدا کرتی ہے، مجھے یہ بالکل پسند نہیں اور اسے بند ہونا چاہیے۔ میں اس کی جگہ صدر ہوتا تو یہ جنگ کبھی نہ ہوتی، یہ جو بائیڈن، زیلنسکی اور پیوٹن کی جنگ ہے ٹرمپ کی جنگ نہیں۔'








