ایم 6 کی تعمیر وفاقی حکومت اور بینکوں کی فنڈنگ سے ہورہی ہے، عبدالعلیم خان
وفاقی وزیر مواصلات اور وزیراعلیٰ سندھ کی ملاقات
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پورٹ سے موٹرویز کا ربط لازم ہے، بصورت دیگر منصوبہ ادھورا رہے گا۔ ایم 6 کی تعمیر وفاقی حکومت اور بینکوں کی فنڈنگ سے کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی اجلاس: بھارتی دھمکیوں، سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر
مواصلاتی امور پر گفتگو
نجی ٹی وی نیوزسماکے مطابق وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے کراچی میں ملاقات کی، جس میں ایم 6 موٹروے، نیشنل ہائی وے اور جامشورو سیہون سڑک سمیت دیگر مواصلاتی امور پر گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب لائبریری فاؤنڈیشن بورڈ آف گورنرز کا اجلاس، کتب بینی کے فروغ کے لیے خصوصی پروگرامز کا اعلان
ایم 6 موٹروے کی تعمیر
وفاقی وزیر مواصلات نے کہا کہ کراچی پورٹ سے موٹرویز کا ربط لازم ہے، بصورت دیگر منصوبہ ادھورا رہے گا۔ موٹروے کا مقصد ابتداء سے انتہاء تک رابطہ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایم 6 کو 5 سیکشنز میں تقسیم کیا گیا ہے، 3 سیکشنز کی فنڈنگ مکمل ہوگئی ہے جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر داخلہ سندھ کی پولیس کو فول پروف رمضان سکیورٹی پلان تیار کرنے کی ہدایت
وزیراعلیٰ سندھ کی رائے
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی سے پشاور اور لاہور تک موٹروے کا تسلسل ضروری ہے اور جامشورو سے سیہون سڑک کو جلد مکمل کرایا جائے۔ وفاقی وزیر نے انہیں بتایا کہ سڑک کی تکمیل کے لئے کام شروع ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: کورنگی میں جھگڑے کے دوران چھوٹے بھائی کی فائرنگ سے بڑا بھائی زخمی
این ایچ اے کی بریفنگ
اس موقع پر وفاقی وزیر کے ہمراہ سیکریٹری مواصلات، چیئرمین این ایچ اے اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ این ایچ اے نے بریفنگ میں بتایا کہ تھرڈ پارٹی آڈٹ میں لیاری ایکسپریس وے کو ہیوی ٹریفک کے لئے غیر موزوں قرار دیا گیا۔ پیک آورز میں ہیوی ٹریفک کو گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ انجنیئرنگ سلوشن کے ذریعے سہراب گوٹھ پر ٹریفک جام کے مسئلے کا حل نکالنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
سہراب گوٹھ پر خدمات
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سہراب گوٹھ پر سروس روڈ کی ضرورت ہے تاکہ مقامی اور ہیوی ٹریفک الگ ہوسکے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سہراب گوٹھ پر مقامی اور پورٹ ٹریفک ساتھ چلتی ہے جبکہ ایکسپریس وے کو سہراب گوٹھ پر اتارا گیا ہے۔ لیاری ایکسپریس وے کا مقصد پورٹ سے ٹریفک موٹر وے پر پہنچانا تھا، جس میں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔








