ہم ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی حمایت کرتے ہیں، وزیراعظم
ایران کے ساتھ پاکستان کی دوستی کا عزم
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے بھارتی کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت پر ایران کا شکریہ ادا کیا اور ایران کے نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان کے وارنٹ گرفتاری جاری
مشترکہ پریس کانفرنس میں گفتگو
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا: "ایران کو اپنا دوسرا گھر سمجھتا ہوں، اور یہاں کا دورہ کر کے دلی مسرت ہوئی ہے."
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا حماس کے ترجمان ابو عبیدہ کی شہادت کا اعلان
تاریخی تعلقات کو تقویت دینے کی ضرورت
وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور ایران کے دیرینہ، ثقافتی اور تاریخی تعلقات ہیں، اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ان تعلقات کو مزید گہرا بنانے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے ذریعے مضبوط کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کالج فار بوائز میں 16 اپریل کو بنگلہ دیش کے نامور سابق سفیر ایم مجارالقیس کی یاد میں خصوصی تقریب
جنوبی ایشیا کی کشیدگی پر تشویش
وزیراعظم نے کہا کہ ایرانی صدر کے ساتھ تعمیری بات چیت ہوئی، جنہوں نے جنوبی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ایرانی سفیر نے بھی مسلسل رابطہ رکھا جس پر وزیراعظم نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ہر چیز موجود ہے، مہلت کس بات کی مانگ رہے ہیں، سپریم کورٹ پراسیکیوٹر پر برہم
مکالمے کی اہمیت
انہوں نے وضاحت کی کہ پاکستان امن کے خواہاں ہے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور لوک سبھا کی قرارداد کے تحت مقبوضہ کشمیر کا حل بھی پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کہیں بارش کا پانی نہیں کھڑا: مرتضیٰ وہاب کا دعویٰ
بھارت کے ساتھ سنجیدہ بات چیت
وزیراعظم نے کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ پانی، تجارت اور انسداد دہشت گردی جیسے معاملات پر سنجیدہ گفتگو کرنا چاہتے ہیں، تاہم اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو ہم اپنے ملک کا بھرپور دفاع کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بازی پلٹ دی، استادوں کی باتیں پلو سے باندھ لیتا، استادوں کا گیان معاملات سلجھادیتا ہے،بے فکر رہیں ”سخاوت“ میں سخاوت والی کوئی بات نہیں
غزہ کے لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی
شہباز شریف نے غزہ کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہاں 54 ہزار فلسطینی اسرائیلی بربریت سے شہید ہو چکے ہیں۔ عالمی برادری کو جنگ بندی کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ علیزے شاہ کی سوشل میڈیا پر بولڈ ویڈیو وائرل
ایران کی حمایت کا اعادہ
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہم ایران کے پُرامن نیوکلیئر پروگرام کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا: اورکزئی میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس ٹیم پر حملہ، 2 اہلکار جاں بحق
ایرانی صدر کی جانب سے خیرمقدم
دوسری جانب ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات دیرینہ ہیں اور بھارت و پاکستان کے درمیان سیز فائر کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کو اختلافات حل کرنے کے لیے بات چیت کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے کتنے امکانات ہیں؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
خطے کے امن کی اہمیت
ایرانی صدر نے کہا کہ فلسطین میں مظالم کی مذمت کرتے ہوئے ایران اور پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک ہیں، جو مل کر غزہ مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔
مغربی ممالک کی خاموشی پر تنقید
انہوں نے کہا کہ تمام مغربی ممالک خاموش رہ کر اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جو کہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ ایرانی صدر نے دورے پر وزیراعظم اور پاکستانی وفد کا شکریہ ادا کیا。








