لاہور میں 3800 سرکاری گاڑیوں کے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں ملوث ہونے کا انکشاف
لاہور میں سرکاری گاڑیوں کی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں 3800 سے زائد سرکاری گاڑیاں جو سینئر بیوروکریٹس اور پولیس افسروں کے استعمال میں ہیں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتی پائی گئی ہیں۔ ان میں اعلیٰ حکام جیسے انسپکٹر جنرل پولیس، لاہور کمشنر، ڈی سی، وفاقی اداروں کے ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر اہم حکام کی گاڑیاں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیونرل ہوم میں سڑتی ہوئی 18 انسانی لاشیں ملنے پر امریکہ میں ہنگامہ
پیپلز کے خلاف کاروائی
لاہور سٹی ٹریفک پولیس کی رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس کی 496 سرکاری گاڑیاں سب سے زیادہ خلاف ورزی کر رہی ہیں، اس کے بعد سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کی گاڑیاں شامل ہیں۔ کئی گاڑیاں متعدد بار خلاف ورزیاں کر چکی ہیں اور جرمانے وصول نہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دلجیت دوسانجھ کی سوشل میڈیا ویڈیو پر سجاد علی کا ‘راوی’ گانا
کئی گاڑیوں کی متعدد خلاف ورزیاں
ڈان کے مطابق ایک گاڑی نے 107 بار خلاف ورزی کی اور 50 ہزار روپے سے زائد جرمانہ ادا نہیں کیا، جبکہ دیگر گاڑیوں کے جرمانے بھی واجب الادا ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مختلف سرکاری محکموں کی مجموعی طور پر 73 محکموں کی گاڑیاں اس بدانتظامی میں ملوث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ہوائی بازی کی تاریخ کا سب سے بڑا معاہدہ، قطر امریکہ سے 200 ارب ڈالرز کے 160 ہوائی جہاز خریدے گا
پنجاب سیف سٹی کی مداخلت
پنجاب سیف سٹی کیمرے ان خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کرتے ہوئے ای چالان جاری کرتے رہے مگر ذمہ دار افسران نے جرمانے ادا نہیں کیے۔ لاہور چیف ٹریفک آفیسر نے اس معاملے کو چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کے نوٹس میں لایا ہے اور مداخلت کی درخواست کی ہے۔
عام شہریوں کے خلاف کارروائیاں
دوسری طرف، گزشتہ 10 دنوں میں عام شہریوں کے خلاف 4541 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں اور کئی افراد موقع پر گرفتار بھی ہوئے ہیں۔








