یہ تفتیش بدنیتی پر مبنی، پہلے جو گواہ اور ثبوت انہوں نے پیش کئے وہ عدالتوں نے نہیں مانے، عمران خان کے وکیل کے ضمانت کی درخواست پر دلائل
لاہور ہائیکورٹ میں سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں درخواست ضمانت پر وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ ضمانت کی درخواستوں اور ان ٹیسٹوں کا کوئی تعلق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر نیاز اللہ نیازی نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عمران ریاض کے نام درخواست لکھ دی، وصولی سے انکار
پولی گراف ٹیسٹ کا انکار
بانی پی ٹی آئی نے پولی گراف ٹیسٹ کرانے سے انکار کیا، اس کی وجوہات بھی بتائیں۔ دو سال کے بعد یہ تفتیش کے لئے آئے، یہ تفتیش بدنیتی پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ کو تشدد کا آئینی اختیار حاصل ہے: سہیل وڑائچ
گواہوں اور شواہد کا معاملہ
پہلے جو گواہ اور ثبوت انہوں نے پیش کئے وہ عدالتوں نے نہیں مانے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا نے فی یونٹ بجلی 93 پیسے سستی کردی
سرکاری وکیل کی دلیلیں
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی۔ وکیل بانی پی ٹی آئی سلمان صفدر نے کہاکہ عدالت پہلے مجھے سن لے۔ سرکاری وکیل نے تو تاریخ ہی مانگنی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم این اے ڈاکٹر نکہت شکیل بھی آن لائن فراڈ کا شکار، ہیکر نے واٹس ایپ ہیک کر کے رشتہ داروں اور دوستوں سے پیسے بٹور لیے
تفتیش میں شمولیت کا نہ ہونا
سرکاری وکیل نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی نے پولی گراف اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کرانے سے انکار کیا اور بانی پی ٹی آئی تفتیش جوائن نہیں کررہے۔ ہم ملزم کا جسمانی ریمانڈ نہیں مانگ رہے، صرف تفتیش چاہتے ہیں۔
تاریخوں کی واپسی
سلمان صفدر نے کہاکہ ضمانت کی درخواستوں اور ان ٹیسٹوں کا کوئی تعلق نہیں۔ تفتیشی افسر بانی پی ٹی آئی سے ملے ہی نہیں۔ جب بھی یہ آتے ہیں، تاریخ ہی مانگتے ہیں۔








