یہ تفتیش بدنیتی پر مبنی، پہلے جو گواہ اور ثبوت انہوں نے پیش کئے وہ عدالتوں نے نہیں مانے، عمران خان کے وکیل کے ضمانت کی درخواست پر دلائل
لاہور ہائیکورٹ میں سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی 9 مئی کے 8 مقدمات میں درخواست ضمانت پر وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ ضمانت کی درخواستوں اور ان ٹیسٹوں کا کوئی تعلق نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں ترمیم سے جنم لینے والی اہم تبدیلیاں چند دنوں میں منظر عام پرآنا شروع ہوجائیں گی۔۔۔صالح ظافر نے تہلکہ خیز انکشافات کر دیئے
پولی گراف ٹیسٹ کا انکار
بانی پی ٹی آئی نے پولی گراف ٹیسٹ کرانے سے انکار کیا، اس کی وجوہات بھی بتائیں۔ دو سال کے بعد یہ تفتیش کے لئے آئے، یہ تفتیش بدنیتی پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کیس؛ منتوں، مرادوں اور دعاؤں کے بعد آج کی تاریخ ملی ہے، وکیل سلمان صفدر کا عدالت میں بیان
گواہوں اور شواہد کا معاملہ
پہلے جو گواہ اور ثبوت انہوں نے پیش کئے وہ عدالتوں نے نہیں مانے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹس اب بھی بنگلہ دیش کے میڈیا، تعلیمی شعبے اور انتظامیہ میں سرگرم ہیں، تہلکہ خیز انکشاف
سرکاری وکیل کی دلیلیں
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے سماعت کی۔ وکیل بانی پی ٹی آئی سلمان صفدر نے کہاکہ عدالت پہلے مجھے سن لے۔ سرکاری وکیل نے تو تاریخ ہی مانگنی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عامر خان کی گرل فرینڈ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پہلی بار عوامی مقام پر انٹری
تفتیش میں شمولیت کا نہ ہونا
سرکاری وکیل نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی نے پولی گراف اور فوٹو گرامیٹک ٹیسٹ کرانے سے انکار کیا اور بانی پی ٹی آئی تفتیش جوائن نہیں کررہے۔ ہم ملزم کا جسمانی ریمانڈ نہیں مانگ رہے، صرف تفتیش چاہتے ہیں۔
تاریخوں کی واپسی
سلمان صفدر نے کہاکہ ضمانت کی درخواستوں اور ان ٹیسٹوں کا کوئی تعلق نہیں۔ تفتیشی افسر بانی پی ٹی آئی سے ملے ہی نہیں۔ جب بھی یہ آتے ہیں، تاریخ ہی مانگتے ہیں۔








