چین نے واضح کر دیا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ہے، بھارتی دفاعی تجزیہ کار نے آپریشن سندور کے اثرات بیان کردیے
آپریشن سندور: ایک فیصلہ کن موڑ
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے اپنی تازہ ٹویٹ میں "آپریشن سندور" کے نتائج و اثرات پر روشنی ڈالی ہے، جسے جنوبی ایشیا کی جیو سٹریٹجک سیاست میں ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، اس آپریشن نے خطے کو نہ صرف ایک ممکنہ جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے بلکہ چین کو بطور عالمی طاقت نئی حیثیت بھی عطا کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موریطانیہ کے ساحل کے قریب تارکین وطن سے بھری کشتی ڈوب گئی، 49 افراد ہلاک، 100 لاپتہ
جوہری ممالک کی محاذ آرائی
پروین ساہنی کے مطابق آپریشن سندور نے دونوں جوہری ممالک کو براہ راست محاذ آرائی کے قریب کر دیا۔ اس سے آئندہ ممکنہ جنگ کی نوعیت واضح ہوئی ہے۔ خطے میں مستقبل کی جنگ کس حد تک شدید اور فیصلہ کن ہو سکتی ہے، اس کی تصویر سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھیں: نیم حکیم انفلوئنسرز: خواتین کو گمراہ کر کے پیسے کمانے والے
امریکی غلبے کا خاتمہ
پروین ساہنی کے مطابق اس تنازعے سے جنوبی ایشیا میں امریکی غلبے کا خاتمہ ہوا۔ چین نے اس کارروائی کے ذریعے امریکہ کو پیچھے دھکیل کر خود کو غالب طاقت کے طور پر منوایا۔ کشمیر کے سٹیٹس کو پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ چین نے کشمیر کے مسئلے پر مداخلت کی عملی صلاحیت کا اشارہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ناران میں سیاحت کے دوران بچے سمیت 3 افراد گلیشیر کے نیچے دب کر جاں بحق
چین کا دفاعی پیغام
انہوں نے کہا کہ چین نے اس تنازعے کے ذریعے مغرب کے خلاف دفاعی پیغام دیا۔ پاکستان کے ذریعے چین نے اپنے ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی برتری کو مغرب پر واضح کر دیا۔ چین نے پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا وعدہ پورا کیا۔ چین نے عملی طور پر یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ ہر صورت کھڑا ہے، خاص طور پر عالمی جنوب (Global South) کے تناظر میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہے۔
تصویر









