پاکستان ایران دوستی کا نیاباب، بارڈر کھلا رکھنے سے متعلق بڑا فیصلہ
پاکستانی زائرین کے لیے نئی سہولت
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستانی زائرین کے لیے بڑی سہولت کا اعلان کردیا گیا، جس کے مطابق پاک ایران بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر کے 127 میں سے 40 سیوریج نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق
ملاقات کی تفصیلات
تہران میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی کے درمیان ایک اہم اور نتیجہ خیز ملاقات ہوئی جس میں زائرین کے لیے سہولتوں میں اضافے، بارڈر مینجمنٹ، اور سکیورٹی تعاون کے حوالے سے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے اربعین اور محرم الحرام کے دوران زائرین کے لیے پاک ایران بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے پر اتفاق کیا، جو لاکھوں زائرین کے لیے ایک بڑی سہولت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرداخلہ کا ٹی چوک فلائی اوور منصوبے کا دورہ، مسافروں کو دارالحکومت تک سگنل فری رسائی ملے گی: محسن نقوی
زائرین کی سہولیات
ایرانی وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ ایرانی حکومت 5 ہزار پاکستانی زائرین کو مشہد میں قیام و طعام کی سہولتیں فراہم کرے گی، جب کہ بارڈر سے عراق تک زائرین کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے جائیں گے۔ دونوں وزرائے داخلہ نے زائرین کے مسائل کے فوری حل کے لیے ہاٹ لائن کے قیام کا فیصلہ بھی کیا، تاکہ باہمی رابطہ مؤثر اور تیز رفتار بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: 2018 کے حالات کے ذمہ دار قمر جاوید باجوہ، کورٹ مارشل ہونا چاہیے، خواجہ آصف
تعاون کی مزید راہیں
اربعین سے قبل مشہد میں پاکستانی زائرین سے متعلق ایک سہ ملکی کانفرنس بھی منعقد کرنے پر اتفاق کیا گیا، جس میں پاکستان، ایران اور عراق کی وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے۔ اس کانفرنس کا مقصد زائرین کے سفری، سکیورٹی اور سہولتی امور پر مشترکہ حکمت عملی طے کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان میں کھدائی کے دوران 4 مزدور جاں بحق، وزیراعلیٰ پنجاب کا اظہار افسوس
پروازوں اور بحری راستوں پر گفتگو
ملاقات میں زائرین کی آمد و رفت میں بہتری لانے کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھانے اور اس پر جلد عمل درآمد کے لیے مربوط لائحہ عمل ترتیب دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ بحری راستے سے زائرین کو ایران اور عراق بھیجنے کے امکانات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
تعلقات کی بہتری
محسن نقوی اور اسکندر مومنی کی ملاقات میں پاک ایران تعلقات کے فروغ، غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ اور منشیات کی روک تھام جیسے اہم معاملات پر بھی بات چیت ہوئی۔ دونوں ممالک نے بارڈر سکیورٹی مینجمنٹ کے لیے کوآرڈینیشن کو بہتر بنانے اور اشتراک کار بڑھانے پر اتفاق کیا۔








