کراچی سے تعلق رکھنے والے سابق کرکٹر اور کوچ کے پاؤں میں زخم، ٹانگیں کاٹ دی گئیں۔
مہندر کمار کی حالت زار
کراچی (ویب ڈیسک) کراچی سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے مشہور سابق کرکٹر اور کوچ مہندر کمار کے پاؤں میں زخم ہونے کی وجہ سے ان کی دونوں ٹانگیں کاٹ دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ جنگ میں اسرائیل کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچنے کا انکشاف
زندگی کی مشکلات
جیو نیوز کے مطابق مہندر کمار ان دنوں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کسماپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور حکومت پاکستان اور ملک کے کرکٹ حکام کی جانب سے ملازمت اور مالی مدد کے منتظر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف بن گئے
میڈیکل حالات
کرکٹ کے میدان میں اپنی بولنگ اور کوچنگ سے کارنامے انجام دینے والے مہندر کمار آج دونوں ٹانگوں سے محروم ہوچکے ہیں۔پہلے ان کی ایک ٹانگ کاٹی گئی اور پھر ڈاکٹروں نے کہا کہ جسم میں زہر پھیل سکتا ہے اس لیے دوسری ٹانگ بھی کاٹ دی جائے گی جس کے بعد اپنے دور کے ممتاز فاسٹ بولر اور کرکٹ کوچ کی دوسری ٹانگ بھی کاٹ دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں رئیل ٹائم ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹم ہی موجود نہیں، چونکا دینے والا انکشاف
عراقی محبت
ہندو فیملی سے تعلق ہونے کے باوجود انہوں نے ہمیشہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور سچے اور محب وطن پاکستانی ہیں۔وہ فاسٹ بولر جو دن بھر بولنگ لمبے بولنگ اسپیل کراتے تھے اور پھر اپنی کوچنگ اکیڈمی چلاتے تھے اب بستر پر لیٹے ہوئے کسی امداد کے منتظر ہیں۔مہندر کمار کراچی میں گارڈن کے علاقے میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ماموند عمر خیل قبائل کے دو گروپوں میں 31سال بعد صلح ہوگئی
کیرئیر کا سفر
ہاؤس بلڈنگ فنانس اور کراچی کی جانب سے 65 فرسٹ کلاس میچوں میں187 اور 53 لسٹ اے میچوں میں 64 وکٹیں حاصل کرنے والے مہندر کمار کی پاؤں کی ایڑھی میں زخم ہوا۔وہ شوگر کے مریض بھی تھے۔زہر پورے جسم میں پھیلنے کے خدشے سے ڈاکٹر نے ان کی ایک اور پھر دوسری ٹانگ کاٹ دی۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ۳۷ویں سالگرہ دبئی میں منائی گئی
مثبت کردار
65 سالہ مہندر کمار کراچی میں کے پی آئی گراؤنڈ میں کوچنگ اکیڈمی چلاتے تھے۔ان کی کوچنگ سے سہیل خان، محمد سمیع، دانش کنیریا، تنویر احمد، نعمان اللہ نے انٹر نیشنل کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: روزے دار طالب علم پر کلاس فیلوز کا بہیمانہ تشدد، زبردستی سانس رکوانے سے لڑکا بے ہوش
بچپن سے لے کر کرکٹ تک
مہندر کمار نے 1976 میں پاک پی ڈبلیو ڈی سے فرسٹ کلاس شروع کی پھر 1977 میں یوبی ایل جوائن کی جہاں 3 سال مدثر نذر، ہارون رشید، سکندر بخت، صاوق محمد وغیرہ کے ساتھ کرکٹ کھیلی۔جس کے بعد اے ڈی بی پی میں جلال الدین، سلیم یوسف اور شاہد محبوب کے ساتھ کرکٹ کھیلتے رہے۔
یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں کا کیس، سنی اتحاد کونسل نے سپریم کورٹ کے بینچ پر اعتراض اٹھا دیا
شہرت و کامیابیاں
وہ کراچی کے کپتان بھی رہے اور 1980 میں ہاوس بلڈنگ سے کرکٹ کھیلی اور 1992 تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔مہندر کمار کراچی کے سلیکٹر رہے، انہوں نے شاہد آفریدی، حسن رضا، دانش کنیریا اور فیصل اقبال کو پہلی بار منتخب کیا۔ان کی کوچنگ میں کراچی نے 3 سال قومی انڈر19 کرکٹ ٹورنامنٹ جیتا۔
یہ بھی پڑھیں: زمین زرخیز ہونے کا وقت تھا، اضافی چارج سے جان چھوٹ گئی،محکمے میں وقت پر ترقی کا رواج نہ تھا، افسران صرف اپنی ذات کی حد تک ہی سوچتے تھے
مالی مشکلات
مہندر کمار کا کہنا ہے کہ جب میں بیمار ہوا تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے فنڈ سے میری مدد کی۔گزشتہ دنوں ملتان سلطانز کے مالک علی ترین نے میری مدد کی۔ سابق کپتان معین خان نے بھی گھر آکر میری مدد کی لیکن بیماری کی وجہ سے میں لاکھوں روپے کا مقروض ہوں اور بیماری پر تقریباً 30 لاکھ روپے خرچ ہوچکے ہیں۔میں کراچی میں اکیڈمی سے گھر کا گزر بسر کرتا تھا لیکن ٹانگوں سے محروم ہونے کی وجہ سے میری آمدنی کا ذریعہ ختم ہوچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے کہا ہے آئندہ کوئی ایسا حکم نہیں دیں گے کہ اسلام آباد کی طرف چڑھ دوڑیں، بیرسٹر گوہر
خاندان کی صورتحال
انہوں نے بتایا کہ بیٹا کورنگی میں چھوٹی ملازمت کرتا ہے۔ میرے گھر کے اخراجات زیادہ ہیں۔مہندر کمار کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی میری مشکلات میں کمی لانے کے لیے قدم اٹھائیں۔میرا تعلق ہندو برادری سے ہے لیکن میرا دل پاکستان کے لیے دھڑکتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرے ملک کے حکمران، میرے ساتھی کرکٹرز اور مخیر حضرات آگے آکر میرے گھر کا چولہا جلائیں گے۔
آخری خواہشات
انہوں نے کہاکہ کرکٹ میرا اوڑنا بچھونا ہے لیکن ٹانگوں سے محروم ہونے کے بعد میں بستر پر ہوں۔میں مصنوعی ٹانگوں سے اپنی اکیڈمی دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہوں مجھے سرپرستی درکار ہے۔








