ایرانی جج پر سفاکانہ حملہ، دفتر جاتے ہوئے چاقو کے وار سے قتل
شیراز میں معروف جج کا قتل
ایران کے شہر شیراز میں ایک معروف ایرانی جج احسان باقری کو دفتر جاتے ہوئے نامعلوم حملہ آوروں نے چاقو سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا جنوبی افریقہ اور قومی ٹیم کے اعزاز میں پُرتکلف عشائیہ
قتل کی تفصیلات
سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق، 38 سالہ جج احسان باقری پیر کی صبح دفتر جاتے ہوئے دو افراد کے حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ حملہ آوروں نے کسی چاقو یا بھاری چیز سے حملہ کیا، تاہم ہتھیار کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے ایسے شخص کو سیکریٹری جنرل لگایا ہے جس کے ساتھ کبھی اس کا منشی بھی نہیں ہوتا، فواد چودھری
عدلیہ کی جانب سے تحقیقات کا آغاز
احسان باقری شیراز کی کریمنل کورٹ 2 کی شاخ نمبر 102 کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ صوبائی عدلیہ کے سربراہ سید صدراللہ رجائی نسب نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں ای چالان کا آغاز؛ صرف 6 گھنٹے میں ایک کروڑ روپے کے جرمانے
ملزمان کی گرفتاری کے اقدامات
ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے ملک گیر سرچ آپریشن کا حکم دے دیا ہے۔
پچھلے واقعات کا حوالہ
یاد رہے کہ جنوری میں بھی دو سینئر ججوں علی رزینی اور محمد مقیسہ کو تہران میں ان کے دفاتر میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ ان دونوں واقعات کو ابھی تک آپس میں نہیں جوڑا گیا، لیکن اس طرح کے متواتر حملوں نے ایرانی عدلیہ کے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں。








