ایرانی جج پر سفاکانہ حملہ، دفتر جاتے ہوئے چاقو کے وار سے قتل
شیراز میں معروف جج کا قتل
ایران کے شہر شیراز میں ایک معروف ایرانی جج احسان باقری کو دفتر جاتے ہوئے نامعلوم حملہ آوروں نے چاقو سے حملہ کر کے قتل کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس کی آبنائے ہرمز کھلوانے یا جنگ میں مدد کیلئے بحری بیڑہ بھیجنے کی تردید
قتل کی تفصیلات
سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق، 38 سالہ جج احسان باقری پیر کی صبح دفتر جاتے ہوئے دو افراد کے حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ حملہ آوروں نے کسی چاقو یا بھاری چیز سے حملہ کیا، تاہم ہتھیار کی نوعیت واضح نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے افغانستان کو 39 رنز سے شکست دے دی
عدلیہ کی جانب سے تحقیقات کا آغاز
احسان باقری شیراز کی کریمنل کورٹ 2 کی شاخ نمبر 102 کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ صوبائی عدلیہ کے سربراہ سید صدراللہ رجائی نسب نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مخصوص نشستوں کا کیس، جسٹس جمال مندوخیل کا اکثریتی فیصلے پر جزوی اپیلیں منظور کرنے کا فیصلہ جاری کردیا گیا
ملزمان کی گرفتاری کے اقدامات
ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے ملک گیر سرچ آپریشن کا حکم دے دیا ہے۔
پچھلے واقعات کا حوالہ
یاد رہے کہ جنوری میں بھی دو سینئر ججوں علی رزینی اور محمد مقیسہ کو تہران میں ان کے دفاتر میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ ان دونوں واقعات کو ابھی تک آپس میں نہیں جوڑا گیا، لیکن اس طرح کے متواتر حملوں نے ایرانی عدلیہ کے سیکیورٹی انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں。








