آذربائیجان کی یوم آزادی پر ترکیہ، پاکستان کے رہنماو¿ں کی شرکت دوستی کی عکاس ہے: الہام علیوف
آذربائیجان کی آزادی کی تقریب
کالاچین (ڈیلی پاکستان آن لائن) آذربائیجان کے صدر الہام علیوف نے کہا ہے کہ آذربائیجان کی آزادی کی تقریب میں ترکیہ کے صدر اور وزیراعظم پاکستان بھی موجود ہیں۔ آج کی تقریب میں ترکیہ اور پاکستان کے رہنماوں کی شرکت مضبوط دوستی کی عکاس ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی فوڈ سیکیورٹی نے پنجاب کے کسانوں کے لیے ٹریکٹر سکیم پر شدید تحفظات کا اظہار کردیا
تقریب کی تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق آذربائیجان کے شہر کالاچین میں یوم آزادی کے حوالے سے تقریب منعقد ہوئی، جس میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکت کی۔ تقریب میں نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحٰق ڈار، وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شریک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بھارت کشیدگی کم کرنے کیلئے اقدامات کریں: ملالہ یوسف زئی
صدر الہام علیوف کا خطاب
تقریب سے خطاب میں الہام علیوف نے کہا کہ آذربائیجان کے عوام کو یوم آزادی کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوم آزادی کی تقریب میں برادر ملکوں ترکیہ اور پاکستان کی شرکت ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ ترکیہ اور پاکستان کے رہنماوں کی آج کی تقریب میں شرکت مضبوط دوستی کا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ ہاوس کی راہداریوں میں موبائل فون ویڈیوز بنانے پر پابندی عائد
تاریخی انداز میں آزادی کا ذکر
صدر نے مزید کہا کہ 107 سال پہلے آذربائیجان دنیا کا پہلا آزاد مسلم ملک بنا، مگر 7 سال بعد روس نے قبضہ کر لیا۔ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آذربائیجان آزاد ہوا، مگر آرمینیا کی جارحیت جاری رہی۔ آرمینیا نے ہمارے لوگوں کی نسل کشی کی اور لاکھوں آذربائیجانی شہریوں کو قتل یا پناہ گزین بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی کیلئے پاکستان اور بھارت کے میچز کیلئے نیوٹرل وینیو طے پا گیا
ترک صدر کا پیغام
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترک، پاکستان اور آذربائیجان تین ملک ہیں اور ایک قوم ہیں۔ انہوں نے آذربائیجان کے عوام کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے دوستی کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا۔ آزاد ہونے والے علاقوں میں مختلف ہوائی اڈوں کا افتتاح کیا گیا ہے۔
آذربائیجان کی استقامت
ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ ہر اچھے اور برے وقت میں آذربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے۔








