نواز شریف کی تصاویر والے اشتہارات پر حکومت سے جواب طلب
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کی تصاویر والے اشتہارات پر حکومت سے جواب طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: کسی ناجائز کام کسی کو کبھی نہیں کہوں گا اور نہ ہی آپ سے کسی ناجائز بات کی توقع رکھوں گا، میرے دفتر سے آیا ٹیلی فون نہ سننا یا کال بیک نہ کرنا ناقابل معافی ہے۔
عدالت کی سماعت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے مریم نواز کی جانب سے نواز شریف کی تصاویر کے ساتھ سرکاری اشتہارات جاری کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالت نے چیف سیکرٹری اور دیگر فریقین کی جانب سے جواب جمع نہ کروانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چیف آف ڈیفنس سٹاف کا عہدہ قائم کیا جائے جس کے ماتحت تمام مسلح افواج ہوں، اشتر اوصاف
عدالت کے ریمارکس
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ "یہ عزت کرتے ہیں آپ عدالتوں کی؟ جواب جمع نہیں کروا رہے؟ آپ عدالتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔" عدالت نے واضح کیا کہ اگر آئندہ سماعت پر جواب داخل نہ کروایا گیا تو درخواستوں کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جھوٹ پہ جھوٹ۔۔۔ بھارتی گودی میڈیا اور بھارتی سپانسرڈ فتنہ الخوارج کی سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف مہم پھر بے نقاب ہو گئی
ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی طلبی
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو فوری طور پر عدالت میں طلب کر لیا اور ہدایت کی کہ بتایا جائے کہ سرکاری فریقین نے عدالتی حکم کے باوجود جواب کیوں جمع نہیں کروایا؟
درخواست گزاروں کا مؤقف
درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ پیسوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے نواز شریف کی تصاویر والے اشتہارات جاری کیے گئے جو کہ آئین اور قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ ایسے اشتہارات کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر پابندی عائد کی جائے۔







