پاکستان کا کرپٹو انقلاب کی جانب بڑا قدم، وزیر اعظم کے معاون خصوصی بلال بن ثاقب نے اہم اعلان کر دیا
پاکستان کا کرپٹو انقلاب
لاہور (طیبہ بخاری سے) پاکستان کا کرپٹو انقلاب کی جانب بڑا قدم، پہلے سرکاری حمایت یافتہ بٹ کوائن ریزرو کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان تحریکِ انصاف کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، خیبرجرگے کے فیصلوں کی حمایت، 8 فروری شٹرڈاؤن پر کام تیز کرنے کا فیصلہ
اعلان کا پس منظر
تفصیلات کے مطابق سٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو کا اعلان وزیراعظم کے خصوصی معاون برائے بلاک چین اور کرپٹو اور پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کے سی ای او بلال بن ثاقب نے کیا، یہ اعلان بٹ کوائن ویگاس 2025 کے دوران کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: مغرب کی سیاسی و معاشی برتری کمزور ہو رہی ہے، مسلم ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا : مشاہد حسین سید
ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ
پاکستان کرپٹو کونسل (پی سی سی) کے سی ای او بلال بن ثاقب نے ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا، بلال بن ثاقب نے ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بھارت-پاکستان کشیدگی میں امن قائم کرنے اور کرپٹو اپنانے کے لیے امریکی صدر کی خدمات کو سراہا۔ تقریب کے دوران امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، ایرک ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونئر بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کا گزشتہ مالی سال میں خالص منافع کتنا رہا؟ رپورٹ جاری
ویڈیو
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے مشہور نائٹ کلب میں گیس سلنڈر دھماکہ، 23 افراد جھلس کر ہلاک
پاکستان کی کرپٹو معیشت
ذرائع کے مطابق پاکستان میں 40 ملین کرپٹو والٹس موجود ہیں اور یہ دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ فعال فری لانس معیشتوں میں سے ایک ہے، تقریب سے خطاب میں بلال بن ثاقب نے ایک قومی بٹ کوائن والٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا، قومی بٹ کوائن والٹ ایسے ڈیجیٹل اثاثے رکھے گا جو پہلے ہی ریاست کی تحویل میں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ آج کتنے بجے شروع ہو گا؟ صحیح وقت جانیے
مائننگ اور ڈیٹا سینٹرز
حکومت نے پہلے مرحلے میں بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے 2,000 میگاواٹ زائد بجلی مختص کی ہے۔
اقدامات اور مواقع
ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یہ بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز خود مختار مائنرز، ٹیک کمپنیوں، اور بین الاقوامی بلاک چین فرمز کے لیے دروازے کھول رہا ہے، پاکستان ڈیجیٹل اثاثہ جات اتھارٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا تاکہ بلاک چین پر مبنی مالیاتی ڈھانچے کو ریگولیٹ کیا جا سکے۔








