اگر پاک بھارت جنگ چھڑ جائے تو امریکا کو دونوں کے ساتھ کسی تجارتی معاہدے میں دلچسپی نہیں ہوگی، ٹرمپ
ٹرمپ کا پاکستان اور بھارت کی جنگ پر مؤقف
نیویارک (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر پاک بھارت جنگ چھڑی تو امریکا کو دونوں ممالک کے ساتھ کسی تجارتی معاہدے میں دلچسپی نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: مریم اورنگزیب نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو مریم نواز کے نام سے منسوب کرنے کی خبروں کی تردید کردی
امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارتی مذاکرات
امریکا اور پاکستان کے درمیان تجارت سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت اسلام آباد سے اعلیٰ سطح کا وفد آئندہ ہفتے امریکا روانہ ہوگا تاکہ دو طرفہ تجارتی تعلقات پر مذاکرات کیے جا سکیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد پاکستان کی جانب سے امریکی ٹیریف میں ممکنہ رعایت حاصل کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ججز ٹرانسفر کیس کا فیصلہ محفوظ، آج ہی سنایا جائے گا۔
خطے کی کشیدگی اور تجارت
خبر رساں اداروں کے مطابق ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگر جنوبی ایشیا کے دو بڑے ممالک بھارت اور پاکستان کسی فوجی تصادم (جنگ) میں الجھتے ہیں تو وہ ایسے کسی بھی تجارتی معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کے ساتھ ایک تجارتی معاہدے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن خطے کی کشیدگی ہمیں پیچھے کی جانب دھکیل سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سے مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا کیسز کے خاتمے کے مطالبہ نہیں کریں گے، مصطفی نواز کھوکھر
امریکا کی مداخلت کے اثرات
واضح رہے کہ خطے میں پاک بھارت کشیدگی کے بعد امریکا کی مداخلت سے فریقین جنگ بندی پر رضامند ہوئے ہیں۔ امریکی محصولات (ٹیرف) کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی حکومت نے عالمی سطح پر نئے ٹیرِف نافذ کیے ہیں، جن کا اثر پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک پر پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کوپ 30 اجلاس میں شرکت کیلئے برازیل روانہ
پاکستان کی معیشت پر اثرات
پاکستان کی برآمدات پر ٹیرِف کے باعث 29 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں، جو معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
میڈیا ذرائع کے مطابق پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ ٹیرِف مستقل طور پر لاگو رہے تو برآمدی شعبہ سالانہ 1.1 سے 1.4 ارب ڈالر کا نقصان اٹھا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فضا علی بیٹی کے لباس پر شدید تنقید کی زد میں
بھارت کے تجارتی مذاکرات
دوسری جانب بھارت کے وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے بھی حالیہ دنوں واشنگٹن کا دورہ کیا تاکہ امریکا کے ساتھ جاری تجارتی مذاکرات میں پیش رفت کی جا سکے۔ دونوں ممالک رواں سال جولائی تک ایک عبوری معاہدے تک پہنچنے کا ہدف رکھتے ہیں۔
بھارت کی جدید پیشکش
رپورٹس کے مطابق بھارت امریکی کمپنیوں کو اپنے وفاقی منصوبوں میں 50 ارب ڈالر سے زائد کی شراکت کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے، جو متوقع تجارتی معاہدے کا اہم جزو ہو سکتا ہے۔








