غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر فرانس اور جرمنی بھی عاجز، اسرائیل کو خبردار کردیا
غزہ میں انسانی بحران
غزہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے معاملے پر فرانس اور جرمنی کی بھی بس ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈبینک نے تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کیلئے 9 سفارشات پیش کردیں
فرانس کی تنبیہ
نجی ٹی وی جیو نیوز نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر چند گھنٹوں اور دنوں میں غزہ میں انسانی امدادی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو فرانس اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جب آپ اپنی مرضی کے احساسات کا انتخاب کر سکتے ہیں، تب آپ ذہانت کی طرف بڑھنے لگتے ہیں
جرمن مؤقف
دوسری جانب جرمنی نے بھی اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی غزہ کی صورت حال سے مشروط کرنے کا اشارہ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگلا میچ کھیلنے ساہیوال چلے آئے، میچ ہم ہار گئے اور وہ اپنا دل، تحریری امتحان کی چھٹی ملی، امتحان دے کر دل مطمئن تھا کہ یہاں سلیکشن ہو جائے گی.
اقوام متحدہ کی رپورٹ
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہر 20 منٹ میں ایک بچہ شہید ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی ہمدردی امور کے مطابق غزہ دنیا میں واحد علاقہ ہے جہاں کی 100 فیصد آبادی قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔
مزید فلسطینی شہداء
اسرائیلی حملوں میں مزید 30 فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہداء کی تعداد 72 ہو گئی ہے۔ مزید برآں، فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے رفح میں اسرائیلی فوج پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی ہے。








