غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر فرانس اور جرمنی بھی عاجز، اسرائیل کو خبردار کردیا
غزہ میں انسانی بحران
غزہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کے معاملے پر فرانس اور جرمنی کی بھی بس ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: وینزویلا کے صدر کی گرفتاری پر امریکہ نے کتنے ملین ڈالرز انعام کا اعلان کیا تھا؟ تفصیل سامنے آگئی۔
فرانس کی تنبیہ
نجی ٹی وی جیو نیوز نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر چند گھنٹوں اور دنوں میں غزہ میں انسانی امدادی صورت حال بہتر نہ ہوئی تو فرانس اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کے انتقال پر اظہار افسوس
جرمن مؤقف
دوسری جانب جرمنی نے بھی اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی غزہ کی صورت حال سے مشروط کرنے کا اشارہ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب 22 بڑے اور 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز سے بدامنی ختم نہیں ہو سکی تو ہمیں کوئی سمجھائے کہ دوبارہ آپریشن کے فائدہ مند نتائج کیا ہوں گے؟ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
اقوام متحدہ کی رپورٹ
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کا کہنا ہے کہ غزہ میں ہر 20 منٹ میں ایک بچہ شہید ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی ہمدردی امور کے مطابق غزہ دنیا میں واحد علاقہ ہے جہاں کی 100 فیصد آبادی قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔
مزید فلسطینی شہداء
اسرائیلی حملوں میں مزید 30 فلسطینی شہید ہو گئے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہداء کی تعداد 72 ہو گئی ہے۔ مزید برآں، فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے رفح میں اسرائیلی فوج پر حملے کی ویڈیو جاری کر دی ہے。








