اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کی سوراب میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت
عمر ایوب خان کا ردعمل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی اسمبلی میں قائدِ حزب اختلاف عمر ایوب خان نے بلوچستان کے ضلع سوراب میں دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) ہدایت اللہ بلوچ بلیدی شہید ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں دولہے کو پولیس نے بارات کی تقریب میں سے گرفتار کر لیا، حیران کن انکشاف
شہید کی قربانی کا اعتراف
عمر ایوب خان نے شہید اے ڈی سی ہدایت اللہ بلیدی کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی بہادری اور قومی خدمت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا "اے ڈی سی ہدایت اللہ بلیدی نے دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا اور اپنے عوام اور ملک کا دفاع کیا۔"
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور قازقستان کی افواج کے درمیان مشترکہ مشقیں جاری
تجزیہ حملے کا
اپوزیشن لیڈر نے سوراب میں اے ڈی سی کی سرکاری رہائش گاہ پر حملے اور دہشت گردوں کی جانب سے عمارتوں کو آگ لگانے کے واقعے کو انتہائی سفاکانہ اور بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی نادہندگان سمیت تمام صنعتوں کی پیداوار ڈیجیٹائز کرکے ٹیکس نیٹ میں لانے کی ہدایت
دہشت گردوں کا سخت جواب
انہوں نے کہا "دہشت گرد جو بلوچستان کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں، ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیے۔ یہ عناصر صرف بلوچستان ہی کے نہیں، بلکہ پاکستان کے دشمن ہیں۔"
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا سے بھاری پیسہ کمانے والے ایف بی آر کے ریڈار پر آگئے، تمام انفلوئنسرز، کنٹنٹ کریٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ
سیکیورٹی فورسز کا کردار
عمر ایوب خان نے سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور جرات مندانہ کارروائی کو سراہا، جس کے نتیجے میں پانچ دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا "پوری قوم اپنی افواج کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کو سلام پیش کرتی ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: اکانومسٹ نے وہی لکھا جو ہم بتاتے رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی نے اقتدار پر قابض رہنے کے لیے سازشیں کیں، حنیف عباسی
بیرونی ایجنڈے کا تذکرہ
اپوزیشن لیڈر نے اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کی دہشت گردی کی کارروائیاں بیرونی ایجنڈے کا حصہ ہیں، خاص طور پر بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر اس میں ملوث ہیں۔ بلوچ علاقوں کو نشانہ بنانا اور معصوم شہریوں، بالخصوص خواتین و بچوں پر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ ان دہشت گردوں کا بلوچ روایات یا اقدار سے کوئی تعلق نہیں۔
ریاست سے مطالبات
عمر ایوب خان نے ریاست سے مطالبہ کیا کہ تمام ریاست مخالف عناصر کو کچلا جائے اور ان کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ پوری پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے اور اس سرزمین سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے متحد ہے۔








