تنخواہ داروں کو ریلیف کے لیے بچت اسکیموں اور بینک ڈیپازٹ پر ٹیکس میں 2 فیصد اضافے پر غور
اسلام آباد کی تازہ خبر
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی رضامندی سے تنخواہ دار اور دیگر شعبوں کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش میں ایف بی آر کمرشل بینکوں اور بچت سکیموں میں رکھے گئے ڈیپازٹس پر حاصل ہونے والی سود کی آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں 2 فیصد اضافے پر غور کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ (ن) کی ترجیحات صرف اور صرف عوام کے مسائل کا حل ہے: وزیر اعلیٰ مریم نواز
نئے بجٹ میں ٹیکس کی تجاویز
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں فائلرز اور نان فائلرز دونوں کے لئے ٹیکس کی شرح میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیملی پنشن لینے والے اور نئے پنشنرز بھی اضافے سے مستفید ہوں گے، پنشن میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری
آئی ایم ایف کی حتمی منظوری
ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق آئی ایم ایف نے ابھی اس تجویز کی حتمی منظوری نہیں دی ہے۔ آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے اور دیگر شعبوں کو ریلیف فراہم کرنے کی صورت میں پیدا ہونے والے خسارے کو پورا کرنے کے لئے مختلف ٹیکس تجاویز کی تفصیلات طلب کی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی ترمیم کیلئے حکومت کو 64ارکان کی حمایت درکار، اصل میں پوزیشن کیا ہے؟ جانیے
سود کی آمدنی پر ٹیکس میں اضافہ
ایف بی آر کے سابق ممبر ٹیکس پالیسی ڈاکٹر محمد اقبال کے مطابق اگر اس ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا تو اس سے ان لوگوں کی زندگی مشکل ہو جائے گی جو بینکوں اور سیونگز سکیموں میں اپنی جمع شدہ رقم سے حاصل ہونے والی سودی آمدن پر منحصر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری کے لیے عارف حبیب کنسورشیم نے دوسرے مرحلے میں 121 ارب روپے کی بولی لگادی
بینکوں پر اثرات
اسی طرح کمرشل بینکوں کو بھی نقصان ہوگا کیونکہ ان کی جمع شدہ رقوم میں کمی آسکتی ہے۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے دی نیوز کو بتایا کہ یہ غیر فعال آمدنی پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کے طریقوں میں سے ایک ہے کیونکہ افراد کے ساتھ ساتھ کمپنیاں بھی کمرشل بینکوں اور بچت سکیموں میں پیسہ لگاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی پاسپورٹ پر 32 ممالک کا ویزہ فری سفر ممکن، عالمی رینکنگ میں بہتری
موجودہ ٹیکس کی شرح
فائلرز کے لئے سود کی آمدنی پر موجودہ ٹیکس کی شرح 15 فیصد تھی جبکہ نان فائلرز کے لئے یہ بڑھا کر 35 فیصد کر دی گئی تھی۔ آئندہ بجٹ میں فائلرز اور نان فائلرز دونوں کی غیر فعال آمدنی پر ٹیکس کی شرح میں 2 فیصد اضافہ زیر غور ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں ترمیم سے متعلق پیپلز پارٹی جو فیصلہ کرے گی پاکستان کے حق میں ہوگا: شرجیل میمن
خسارے کی تشویش
ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا کہ سود کی آمدنی پر 15 فیصد کی شرح پہلے ہی کافی زیادہ تھی۔ اگر اس میں اضافہ کیا جائے تو یہ افراد کی زندگیوں پر منفی اثر ڈالے گا۔
نتیجہ
اگر یہ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا تو یہ بینکوں کی جمع شدہ رقوم میں کمی کا باعث بن سکتا ہے اور افراد کی معاشی حالت کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کو سوچنا ہوگا کہ وہ مزید مشکلات پیدا کرنے کے بجائے حل کیسے نکال سکتی ہے۔








