بجٹ 2025-26 کی تفصیل منظر عام پر، سرمایہ کاری کے شعبے میں کل ہدف 14.7 فیصد رکھنے کی تجویز
اقتصادی ترقی کا ہدف
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے حکومت نے معاشی ترقی کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ افراط زر (مہنگائی) کو 7.5 فیصد تک محدود رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ اے پی سی سی کا اہم اجلاس آج منعقد ہو رہا ہے جس میں معاشی اہداف کا تعین کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی گلوکار سدھو موسے والا کو مداحوں کے دلوں میں ایک بار پھر زندہ کرنے کا اعلان
زرعی شعبے کی ترقی
بجٹ دستاویز کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد رکھا گیا ہے۔ بڑی فصلوں کی ترقی کا ہدف 6.7 فیصد، کپاس کے لیے 7 فیصد، لائیو اسٹاک 4.2 فیصد، جنگلات 3.5 فیصد جبکہ ماہی گیری کی ترقی کا ہدف تقریباً 3 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ شردھا کپور کے بھائی کو ممبئی پولیس نے 252 کروڑ روپے کے مبینہ منشیات کیس میں طلب کر لیا
صنعتی شعبے کی ترقی
صنعتی شعبے میں مجموعی ترقی کا ہدف 4.3 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ معدنی ترقی کا ہدف 3 فیصد، مینوفیکچرنگ 4.7 فیصد، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ 3.5 فیصد، اسمال اسکیل انڈسٹری 8.9 فیصد، تعمیرات 3.8 فیصد جبکہ بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے لیے 3.5 فیصد کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا احتجاج اور شدیدنعرے بازی
خدمات کے شعبے کی ترقی
خدمات کے شعبے میں کل ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ ہول سیل و ریٹیل کی ترقی کا ہدف 3.9 فیصد، مواصلات و ٹرانسپورٹ 3.4 فیصد، ہوٹلز و خوراک 4.1 فیصد، اطلاعات و مواصلات 5 فیصد، انشورنس و مالیاتی خدمات 5 فیصد، ریئل اسٹیٹ 4.2 فیصد، حکومتی خدمات 3 فیصد، تعلیم 4.5 فیصد جبکہ صحت و سماجی ترقی کا ہدف 4 فیصد تجویز کیا گیا ہے۔
سرمایہ کاری کے اہداف
سرمایہ کاری کے شعبے میں کل ہدف 14.7 فیصد، نجی سرمایہ کاری 9.8 فیصد اور قومی بچتوں کا ہدف 14.3 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ دستاویز میں مہنگائی کو 7.5 فیصد تک محدود کرنے کا ہدف مقرر کرنے کی تجویز ہے۔








