بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو مہنگائی کے تناسب سے ریلیف دینے کا فیصلہ
حکومت کا سرکاری ملازمین کے لئے نئے بجٹ میں ریلیف کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) حکومت نے نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر آج انتخابات ہوں تو 36 فیصد نوجوان پی ٹی آئی اور 33 فیصد ن لیگ کو ووٹ دیں گے، RAI کا سروے
تنخواہوں میں اضافے کے مطالبات
نجی ٹی وی سما نیوز ذرائع کے مطابق حکومت نے نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کو مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ کیش ٹرانزیکشن کی حوصلہ شکنی کے لئے فنانس بل 2025 میں اہم تجاویز زیر غور ہیں۔
خیال رہے کہ سرکاری ملازمین نے تنخواہوں اور الاؤنسز میں نمایاں اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ ملازمین نے کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ 50 ہزار مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں 10 جون کو پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر مملکت حذیفہ رحمان کا سینئر ایڈیٹرز اور تجزیہ نگاروں کے اعزاز میں ظہرانہ
نئے بجٹ میں کیش ٹرانزیکشن پر پابندیاں
ذرائع ایف بی آر کے مطابق، کیش ٹرانزیکشن کی حوصلہ شکنی کے لئے بجٹ میں پیٹرول پمپ سے نقد تیل خریدنے پر تین روپے تک اضافی وصولی کی تجویز ہے۔ اس سے ٹیکس چوری اور ملاوٹ پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان نقد فروخت پر اضافی 2 فیصد ٹیکس وصول کرسکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ترک صدر رجب طیب اردوان کا پاکستان میں سیلاب سے نقصانات پر اظہارِ افسوس اور مدد کی پیشکش
نئے ٹیکس تجاویز
بجٹ میں ٹیئرون ری ٹیلرز پر نقد خریداری پر بھی اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ ریسٹورنٹس میں پہلے ہی ڈیبٹ کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی پر ٹیکس چھوٹ ہے، اور پیٹرول پمپس پر نقد کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پیمنٹ کے اختیارات استعمال کئے جائیں گے۔ کیوآر کوڈز، ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈز، اور موبائل ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔ خریدار زیادہ ٹیکس ادا کرنے کے بعد نقد ادائیگی کرنے میں آزاد ہوں گے۔
نئے بجٹ میں ٹیکس نیٹ کی توسیع
ذرائع ایف بی آر کے مطابق، نئے بجٹ میں ایونٹ مینجرز، جیولرز، شادی ہالز، ڈاکٹر اور وکلا کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوئی تجویز شامل نہیں ہے۔








