ملیر جیل سے 216 قیدی فرار، شدید فائرنگ، ایک قیدی ہلاک، 3ایف سی اہلکار زخمی

کراچی میں قیدیوں کا فرار

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل سے 216 قیدی دیواریں توڑ کر فرار ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 6 ماہ میں اہداف حاصل نہ کرنے والے اداروں کو الٹی میٹم دیدیا

فائرنگ کا واقعہ

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق قیدیوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کی، فائرنگ کے دوران ایک قیدی ہلاک جبکہ 5 زخمی ہوگئے، 3 ایف سی کے اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد 80 قیدیوں کو مختلف علاقوں سے گرفتار کر لیا گیا، جبکہ 9 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: ڈیفنس تھانے میں قانون کے طلبہ کا پولیس اہلکاروں پر تشدد، پولیس کی فائرنگ سے 4 زخمی

وزیر جیل کا نوٹس

زلزلے کے جھٹکوں کے باعث قیدیوں کو بیرکس سے باہر نکالا گیا تھا۔ وزیر جیل سندھ علی حسن زرداری نے ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کی خبروں کا نوٹس لیا اور آئی جی جیل اور ڈی آئی جی جیل سے رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ علاقے کو کارڈن آف کر دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں کوئی نیا آپریشن نہیں ہو رہا ، شہلا رضا

غفلت برتنے والوں کی تحقیقات

وزیر جیل کا کہنا تھا کہ فرار ہونے والے قیدی کو ہر حال میں پکڑا جائے، اور واقعے میں غفلت برتنے والے افسران کا تعین کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی، پاک بھارت میچ نہ ہونے پر آئی سی سی اور بھارتی بورڈ کو کتنا مالی نقصان ہو گا؟ حیران کن انکشاف

قیدیوں کی دوبارہ گرفتاری

ڈی آئی جی جیل حسن سہتو اور ایس ایس پی ملیر کاشف عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے فرار ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار کئے جانے والے قیدی سکھن تھانے کے لاک اپ میں رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ

وزیر داخلہ کی کارروائیاں

وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے ڈسٹرکٹ ملیر جیل کا دورہ کیا اور جیل حکام سے واقعے کی تفصیلات لیں۔ انہوں نے ایس ایس پی ملیر کو فوری ملیر جیل پولیس سے رابطے اور مفرور قیدیوں کی تلاش کے احکامات جاری کئے۔ ضلعی سطح پر انتہائی مربوط اور مؤثر اقدامات کے ذریعے مفرور قیدیوں کی گرفتاری کی ہدایات جاری کیں۔

یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعہ اور بھارتی اقدامات کیخلاف ہم متحد، فوج کیساتھ کھڑے ہیں: بیرسٹر گوہر

قیدیوں میں بے چینی

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ناکہ بندی، ریکی، نگرانی اور انٹیلی جنس کی بدولت جملہ اقدامات کو کامیاب بنایا جائے اور تمام تر ضروری اقدامات سے آگاہ رکھا جائے۔ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ مسلسل زلزلوں کی وجہ سے قیدیوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: محکمہ داخلہ میں اعلیٰ سطحی اجلاس، پنجاب میں 3960 اقلیتی عبادت گاہوں کے سیکیورٹی آڈٹ کا فیصلہ، خصوصی سیل قائم

پولیس کی کارروائیاں

ڈی آئی جی جیل نے کہا کہ جیل میں موجود قیدیوں کی گنتی کی جائے گی جس کے بعد پتہ چلے گا کہ کتنے قیدی فرار ہوئے ہیں۔ پولیس نے پوری جیل کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ پولیس، رینجرز اور ایف سی نے بروقت کارروائی کی، آپریشن کے دوران تین ایف سی اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں چھیپا ایمبولینس کے ذریعے نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عمرقید کے ملزم کی اپیل پر سماعت: جج سپریم کورٹ کا مدعی مقدمہ سے دلچسپ مکالمہ، کمرہ عدالت میں قہقہے

پولیس کو ہائی الرٹ

پولیس حکام کے مطابق کراچی میں پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور شہر بھر میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن اور سٹیٹ منسٹر اوورسیز پاکستانی کے وفد کا دورہ متحدہ عرب امارات، چوہدری احسان الحق باجوہ کی رہائش گاہ پر تقریب

فرار کی تعداد

ایس ایس پی ملیر کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے 500 سے 600 قیدیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی، جن میں سے 200 سے زائد قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ پولیس نے 80 قیدیوں کو دوبارہ پکڑ لیا ہے اور بقایا قیدیوں کی تلاش جاری ہے۔

ڈی جی رینجرز کا دورہ

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد شمریز ملیر جیل پہنچے، جہاں رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ جیل حکام نے ڈی جی رینجرز کو واقعے پر بریفنگ دی۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...