ملیر جیل سے 216 قیدی فرار، شدید فائرنگ، ایک قیدی ہلاک، 3ایف سی اہلکار زخمی
کراچی میں قیدیوں کا فرار
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل سے 216 قیدی دیواریں توڑ کر فرار ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: ابھیشیک شرما اوقات سے باہر ہو گیا، پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف گھٹیا بیان دے دیا
فائرنگ کا واقعہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق قیدیوں نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کی، فائرنگ کے دوران ایک قیدی ہلاک جبکہ 5 زخمی ہوگئے، 3 ایف سی کے اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد 80 قیدیوں کو مختلف علاقوں سے گرفتار کر لیا گیا، جبکہ 9 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں دو بھائیوں کو کچلنے والی ملزمہ کا بیان ریکارڈ
وزیر جیل کا نوٹس
زلزلے کے جھٹکوں کے باعث قیدیوں کو بیرکس سے باہر نکالا گیا تھا۔ وزیر جیل سندھ علی حسن زرداری نے ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کی خبروں کا نوٹس لیا اور آئی جی جیل اور ڈی آئی جی جیل سے رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ علاقے کو کارڈن آف کر دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے اعلان پر نیتن یاہو کا ردعمل
غفلت برتنے والوں کی تحقیقات
وزیر جیل کا کہنا تھا کہ فرار ہونے والے قیدی کو ہر حال میں پکڑا جائے، اور واقعے میں غفلت برتنے والے افسران کا تعین کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: بھابی نے شوہر کے ساتھ مل کر 22 سالہ دیور کا نکاح دلہن کی ماں سے کروا دیا
قیدیوں کی دوبارہ گرفتاری
ڈی آئی جی جیل حسن سہتو اور ایس ایس پی ملیر کاشف عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے فرار ہونے کے بعد دوبارہ گرفتار کئے جانے والے قیدی سکھن تھانے کے لاک اپ میں رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یکم ستمبر تک پنجاب کے اسکول بند رکھنے کا فیصلہ نہایت تشویشناک اور ناقابلِ فہم ہے، سابق وزیرتعلیم پنجاب مراد راس
وزیر داخلہ کی کارروائیاں
وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار نے ڈسٹرکٹ ملیر جیل کا دورہ کیا اور جیل حکام سے واقعے کی تفصیلات لیں۔ انہوں نے ایس ایس پی ملیر کو فوری ملیر جیل پولیس سے رابطے اور مفرور قیدیوں کی تلاش کے احکامات جاری کئے۔ ضلعی سطح پر انتہائی مربوط اور مؤثر اقدامات کے ذریعے مفرور قیدیوں کی گرفتاری کی ہدایات جاری کیں۔
یہ بھی پڑھیں: شہرقائد میں پارہ 40ڈگری تک جانے کا امکان
قیدیوں میں بے چینی
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ناکہ بندی، ریکی، نگرانی اور انٹیلی جنس کی بدولت جملہ اقدامات کو کامیاب بنایا جائے اور تمام تر ضروری اقدامات سے آگاہ رکھا جائے۔ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ مسلسل زلزلوں کی وجہ سے قیدیوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: جگن کاظمی کی طرف سے معافی مانگنے کے بعد علیزے شاہ کا بیان بھی سامنے آگیا، دونوں اداکاراؤں میں صلح ہو گئی
پولیس کی کارروائیاں
ڈی آئی جی جیل نے کہا کہ جیل میں موجود قیدیوں کی گنتی کی جائے گی جس کے بعد پتہ چلے گا کہ کتنے قیدی فرار ہوئے ہیں۔ پولیس نے پوری جیل کو گھیرے میں لیا ہوا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈسٹرکٹ پولیس، رینجرز اور ایف سی نے بروقت کارروائی کی، آپریشن کے دوران تین ایف سی اور دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں چھیپا ایمبولینس کے ذریعے نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہماری تیاری اچھی، ایک میچ جیتنے کا مطلب برتری نہیں: بھارتی کپتان
پولیس کو ہائی الرٹ
پولیس حکام کے مطابق کراچی میں پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور شہر بھر میں گشت بڑھا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 129 ضمنی الیکشن، میری پہلی چوائس مہر واجد تھے، حماد اظہر
فرار کی تعداد
ایس ایس پی ملیر کا کہنا ہے کہ ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے 500 سے 600 قیدیوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تھی، جن میں سے 200 سے زائد قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ پولیس نے 80 قیدیوں کو دوبارہ پکڑ لیا ہے اور بقایا قیدیوں کی تلاش جاری ہے۔
ڈی جی رینجرز کا دورہ
ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد شمریز ملیر جیل پہنچے، جہاں رینجرز اور پولیس کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ جیل حکام نے ڈی جی رینجرز کو واقعے پر بریفنگ دی۔








