غزنی میں شیعہ برادری کا افغان حکومت کی حمایت کا اظہار
غزنی کے اسلامی ثقافتی مرکز کا اجتماع
غزنی (ڈیلی پاکستان آن لائن) غزنی شہر کے اسلامی ثقافتی مرکز میں ایک اجتماع کے دوران شیعہ علماء، قبائلی عمائدین، اور سابق سیاسی و فوجی شخصیات پر مشتمل شیعہ علماء کی ہائی کمیشن نے افغان حکومت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار کی گرتی سفارتی حیثیت، بھارت میں ’’غلط معلومات کی لہر‘‘، بھارتی میڈیا ایران، اسرائیل جنگ پر بھی پاکستان کے خلاف زہریلا پراپیگنڈہ کرنے لگا
اجلاس کی اہمیت
اجلاس کے دوران کمیشن کے سربراہ محمد علی اخلاقی نے حکومت اور عوام کے درمیان مضبوط تعلقات کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے افغان حکومت کی چار سالہ کامیابیوں کو سراہا، اور بین الاقوامی شناخت اور افغانستان کے منجمد اثاثوں کی رہائی کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
یہ بھی پڑھیں: عید کے کپڑے بھی عمران خان تک نہیں پہنچ سکے ، یہ پارٹی کے لیے شرم کا مقام ہے ، بس ایک تماشہ لگا ہوا ہے، مشال یوسفزئی
سابق سکیورٹی عہدیدار کا بیان
سابق سکیورٹی عہدیدار جنرل غلام علی وحدت نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں سابق فوجیوں نے عام معافی سے فائدہ اٹھایا ہے، جس سے انہیں محفوظ ماحول میں رہنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے غیر ملکی پروپیگنڈے کو زمینی حقائق سے لاتعلق قرار دیا۔
قومی حکمرانی کی ضرورت
اجلاس میں مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں قومی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے حکومت اور شہریوں کے درمیان اعتماد پیدا کرنا انتہائی ضروری ہے۔








