پختونخوا: ادویات کی خریداری میں خورد برد، سابق ڈی جی صحت سمیت 10 اہلکاروں کی کارروائی کا آغاز
پشاور میں دوائیوں کی خریداری میں خورد برد
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا میں نگران دور میں دوائیوں کی خریداری میں خورد برد کے الزام میں محکمہ صحت کے سابق ڈی جی سمیت 10 اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم سے عوام کو عدالتوں سے جلد انصاف ملے گا: وزیراعظم
نیوز کی تفصیلات
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے صوبے میں نگران دور حکومت میں دوائیوں کی خریداری میں خورد برد کے معاملے میں محکمہ صحت کے سابق ڈی جی سمیت 10 اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، امریکی باؤلرز کے خلاف مشکلات کا شکار بھارتی ٹیم کو سوریا کمار یادیو کا سہارا، اچھا ہدف دینے میں کامیاب ہوگئی
نوٹس اور جواب طلبی
وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کے اہلکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کردیے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق تمام اہلکاروں کو 10 سے 14 دن کے اندر جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جواب نہ ملنے پراہلکاروں کے خلاف ثبوت کے طور پر یکطرفہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے نیو نارمل سیٹ کردیا، قوم سے خطاب میں نریندر مودی کا دعویٰ
تحقیقات اور سفارشات
ان افسران کے خلاف بدعنوانی اور بد انتظامی کی تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔ معاون خصوصی انسداد بدعنوانی مصدق عباسی کی سربراہی میں کمیٹی نے تحقیقات کیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات پر وزیراعلیٰ نے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ، دفاعی تنصیبات پر حملہ، ہلاکتوں کی اطلاعات
مالی نقصان اور وصولی
نوٹس میں ان اہلکاروں سے 17 ، 17 کروڑ روپے سے زائد کی وصولی کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ نگران دورمیں دوائیوں کی خریداری کے لیے 3 ارب سے زیادہ کی رقم جاری ہوئی اور ادویہ ساز کمپنیوں نے ایک ارب 20 کروڑ روپے وصول کرنے کے باوجود دوائیاں نہیں دیں اور حکومت کو صرف 20 کروڑ روپے کی ادویات فراہم کی گئیں۔
صحت مشیر کا بیان
دوسری جانب مشیر صحت خیبرپختونخوا احتشام علی نے جیو نیوز کو بتایا کہ کرپشن کرنے والوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان اہلکاروں کو نہ صرف ملازمت سے فارغ کیا جائے گا بلکہ ان سے وصولی بھی کی جائے گی۔








