وہ ملک جہاں ہر 7 منٹ میں ایک خاتون کی موت ہوتی ہے
نائیجیریا میں زچگی کے دوران اموات
ابوجہ (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائیجیریا دنیا کا سب سے خطرناک ملک ہے جہاں ماں بننا موت کے دہانے پر پہنچنے کے مترادف ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تازہ ترین اندازوں کے مطابق ملک میں ہر 100 میں سے ایک عورت دورانِ زچگی یا اس کے فوراً بعد جان کی بازی ہار دیتی ہے، یعنی ہر سات منٹ میں ایک ماں کی موت واقع ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک سے بے روزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کی کوشش کریں: شیخ رشید
نفیسہ صالحو کی کہانی
بی بی سی کے مطابق 24 سالہ نفیسہ صالحو کی کہانی اسی افسوسناک تصویر کی عکاس ہے۔ وہ اس وقت زچگی کے مرحلے سے گزر رہی تھیں جب ملک میں ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری تھی۔ ہسپتال میں ہونے کے باوجود انہیں بروقت طبی امداد میسر نہ آ سکی۔ تین دن کی تکلیف دہ حالت کے بعد بالآخر ایک سی سیکشن ممکن ہوا، جس نے ان کی جان تو بچا لی، لیکن ان کا نومولود بچ نہ سکا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی کے خطاب سے لگتا ہے کہ انہیں ابھی تک مکمل چین نہیں آیا: عمر ایوب
خواتین کی اموات کی تعداد
نائیجیریا میں 2023 کے دوران تخمینہً 75 ہزار خواتین زچگی کے دوران یا فوراً بعد جاں بحق ہوئیں، جو کہ دنیا بھر میں ہونے والی ماؤں کی اموات کا 29 فیصد ہے۔ ملک میں صرف ایک لاکھ 21 ہزار مڈوائفس موجود ہیں، جبکہ آبادی 21 کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، نائیجیریا کو کم از کم 7 لاکھ مزید نرسوں اور مڈوائفس کی ضرورت ہے تاکہ بنیادی صحت کی خدمات بہتر بنائی جا سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئی سی سی کی نئی ٹیم رینکنگ، وہ ٹیم جس نے پاکستان کو تینوں فارمیٹس میں پیچھے چھوڑ دیا
عملے کی کمی اور طبی سہولیات
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اکثر علاقوں میں تربیت یافتہ طبی عملہ دستیاب نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے خواتین ہسپتال جانے سے گریز کرتی ہیں۔ عملے کی کمی، سہولیات کی عدم دستیابی اور حکومتی نظام کی سست رفتاری اس بحران کو مزید بڑھا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حافظ آباد گینگ ریپ کیس میں نیا موڑ، ملزم بھگانے پر 2 پولیس اہلکار گرفتار
نئی حکومتی منصوبہ
نائیجیرین حکومت نے 2023 میں زچگی کی اموات کم کرنے کے لیے "مامئی" نامی منصوبے کا آغاز کیا، جو ابتدائی طور پر 33 ریاستوں کے 172 اضلاع میں نافذ کیا جائے گا۔
عالمی تناظر میں زچگی کی اموات
اگرچہ دنیا بھر میں زچگی کے دوران اموات میں 2000 کے بعد سے 40 فیصد کمی آئی ہے، لیکن نائیجیریا میں یہ کمی محض 13 فیصد رہی ہے، جو ایک سنگین تشویش کا باعث ہے۔ اس وقت بھی ملک میں روزانہ تقریباً 200 خواتین زچگی کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں، اور ہر موت ایک خاندان کے لیے المیہ بن جاتی ہے。








