عالمی یوم ماحولیات، کسی کے دل میں نہیں اترتی یہ بات
آب و ہوا کی تبدیلی کا سنگین چیلنج
زینب وحید
2025: نہ نارتھ پول بچا نہ ساؤتھ۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء سے یورپ اور امریکا تک ناقابل برداشت گرمیاں اور سردیاں، ہیٹ ویوز، گلیئشیرز پھگلنا، سیلاب، تباہی، قدرتی آفات، ہلاکتیں اور کروڑوں لوگوں کی ہجرت سنگین حالات کا اشارہ اور نئے عزم کا متقاضی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں فیکٹری میں آگ لگ گئی
عالمی درجہ حرارت کا خطرہ
انٹرنیشنل ٹمپریچر تیزی سے 1.5 ڈگری کی طرف گامزن ہے، دنیا کا گلوبل وارمنگ سے گلوبل بوائلنگ کی طرف بڑھنا عالمی اداروں کا شکست کا اعتراف ہے کہ عالمی برادری کلائمٹ چینج کے چیلنج کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نائب صدر پی ٹی آئی پنجاب نے پارٹی ڈسپلن پر جاری شوکاز نوٹس کا جواب دیدیا
پاکستان اور کلائمٹ چینج
یورپ اور امریکا نے ماضی میں ہماری قیمت پر ترقی کی معراج حاصل کی، لیکن منزل پر پہنچ کر ہمیں بھول گئے۔ اگرچہ کلائمٹ چینج سے پاکستان اور دیگر غریب ممالک کا کوئی لینا دینا نہیں، لیکن نتیجہ بھگتنے والوں کی فہرست میں ہم سب سے اوپر ہیں۔ ہر سال ماحولیاتی کانفرنسز ہوتی ہیں، لیکن دنیا ہمارے نقصانات کا ازالہ کرنے پر توجہ نہیں دے رہی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم اپنا حق یعنی کلائمٹ جسٹس مانگتے ہیں، خیرات نہیں کہ دنیا اس معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہو۔ اب کلائمٹ جسٹس کے اصول کے تحت تباہی کا شکار ممالک کی مالی تلافی کا وقت ہے تاکہ بے قصور اور نقصان اٹھانے والے بے حال معاشرے پھر سے پاؤں پر کھڑے ہونے شروع کریں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا منفرد اداکار جاوید کوڈو کے انتقال پر اظہار افسوس
جنوبی ایشیاء کے خطرات
آج 8 ممالک پر مشتمل ڈیڑھ ارب آبادی والے جنوبی ایشیاء کے 75 کروڑ افراد کسی نہ کسی طرح کلائمٹ چینج کی زد میں ہیں۔ یہ خطہ پہلے ہی بھوک و افلاس اور غربت کی گرفت میں ہے اور اب اس پر جنگ کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور دریائوں کا پانی بند کرنا دراصل پانی کو بطور واٹر بم استعمال کرنے کی دھمکی ہے۔ دنیا کو اس واٹر ٹیرر ازم کی طرف بھی فوری توجہ دینی ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل ساحر شمشاد کا نیول ہیڈکوارٹرز کا الوداعی دورہ، ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات
ماحولیاتی خطرات کا موجودہ حال
آج کرہ ارض جس قدر ماحولیاتی تبدیلی کے سنگین خطرات سے متاثر ہو رہا ہے وہ سائنسدانوں کی سمجھ سے بھی بالاتر ہے۔ ڈیٹا کے مطابق 200 سال پہلے عالمی درجہ حرارت منفی 0.8 ڈگری تھا جو اب بڑھ کر 1.2 ڈگری پر آن پہنچا ہے۔ دنیا تیزی سے 1.5 ڈگری کے خطرے کے نشان کی طرف بڑھ رہی ہے جس کے بعد موسمیاتی آفات کی شدت اور کثرت کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس بھی دنیا پر واضح کر چکے ہیں کہ "گلوبل وارمنگ" کا دور ختم اور "گلوبل بوائلنگ" کا عہد شروع ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو چین سے ریل کے رابطے کیلیے 3 ممکنہ راستے ہیں کراچی سے خنجراب براستہ لاہور، راولپنڈی، ٹیکسلا اور حویلیاں، یا گوادر سے خنجراب براستہ سندھ۔
حیران کن قدرتی آفات
30 مئی 2025 کو سوئٹزر لینڈ میں پیش آنے والا واقعہ ایک اور لمحہ فکریہ ہے۔ زمین پر جنت کہلانے والے سوئس الپس میں خوفناک قدرتی آفت نے سب کو چونکا دیا ہے۔ وادی لوٹسچینٹل کے قریب بلیٹن نامی گاوں اُس وقت مکمل طور پر تباہ ہو گیا جب بہت بڑا گلیشیئر ٹوٹ کر برف، کیچڑ اور چٹانوں کے ملبے کے ساتھ تیزی سے نیچے آیا اور پورے گاوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گاؤں کے قریب ندی بھی ملبے سے بھر گئی ہے جس سے دریا کا قدرتی بہاؤ رک گیا ہے اور ممکنہ سیلاب کا خطرہ ہے۔ سوئس وزیر ماحولیات البرٹ روسٹی بہت پریشان ہیں تو ماہرین کلائمٹ چینج اس کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملتان ٹیسٹ؛ پچ کو لیونگ روم کی قالین جیسا قرار دیتے ہوئے، سابق انگلش کرکٹر کی تنقید
پاکستان میں پلیتال کثافت کا مسئلہ
ہفتہ کو پاکستان میں عید ہے۔ ہمارے اجتماعی شعور کا تو یہ عالم ہے کہ ان تین دنوں کے دوران کراچی سے پشاور اور گلگت سے گوادر تک ہر طرف پلاسٹک بیگز کا ہی راج رہتا ہے۔ سستے اور کم وزن ہونے کے باعث عید سے پہلے ان پلاسٹک بیگز کا کاروبار بھی خوب چمک جاتا ہے، لیکن ہم یہ غور و فکر کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ یہ شاپنگ بیگز گلتے ہیں اور نہ سڑتے ہیں، کئی ماہ بعد بھی زمین کی تہہ سے باہر نکالیں تو اپنی اصل شکل میں رہتے ہیں۔ ایک طرف ماحول کو تباہ کرتے ہیں تو دوسری جانب نالوں اور سیوریج لائنز کو بند کر دیتے ہیں۔ سنگل یوز پلاسٹک سے سیوریج سسٹم تباہ ہو جاتا ہے۔ یہ پلاسٹک بیگز پر ماحولیاتی آلودگی کی بڑی وجہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کی خیبرپختونخوا کی طرف سے 2 فیصد ٹیکس لگانےکی مخالفت
بین الاقوامی جوابدہی کی ضرورت
اب وقت آ گیا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک کی قیمت پر ترقی کے بعد خود کو مہذہب کہلانے والی دنیا کلائمٹ چینج کے چیلنج کا مل کر مقابلہ کرے اور اس کو ختم کرنے کے طریقہ کار کے بارے سوچے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ آج ضرورت ہے اُس فہم و فراست، تدبر، اجتماعی دانش اور شعور کی جس کی مدد سے دنیا کلائمٹ چینج کے چیلنج کا مقابلہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھیں: مرحوم شہری نادرا ریکارڈ میں زندہ اور کنوارہ قرار، بچوں کو ب فارم کے حصول میں مشکلات
دنیا کا مستقبل
کلائمٹ چینج نارتھ پول اور ساؤتھ پول کی تفریق نہیں کرتی، اس لئے ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے کے لئے قول و فعل میں تضاد ختم کر کے عملی اقدامات کی طرف پیش رفت وقت پر کرنا ہو گی۔ دنیا ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں سے آسانی سے واپسی ممکن نہیں۔ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کےلئے فوری اجتماعی اقدامات اور ہر فرد کو انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا بھی وقت آگیا ہے کیونکہ ہمیں بچانے کے لئے کسی اور سیارے سے کوئی مسیحا نہیں اترے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سول نافرمانی کی دشمنانہ خواہش پوری کر لیں: عطا تارڑ
عالمی یومِ ماحولیات
دنیا کے لئے فیصلہ کرنے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ آج "عالمی یومِ ماحولیات" پر کرہ ارض ہم سے سوال پوچھ رہا ہے:
"میرے بچو۔ مجھے بچانے کے لیے کیا کیا؟
زمین چیخ رہی ہے، لیکن ہم سننے سے انکاری ہیں
آج کا دن ایک "ٹرینڈ" نہیں، بلکہ وارننگ ہے
ہمیں لائف اسٹائل بدلنا ہو گا
اگر ہم نے آج نہیں سوچا، تو کل بہت دیر ہو جائے گی
زمین ہم سے پوچھے گی:
"تم کہاں تھے جب میں تڑپ رہی تھی؟
تب کیا ہمارے پاس جواب ہوگا؟
تعارف مصنفہ
زینب وحید پرائم منسٹر نیشنل یوتھ کونسل کی ممبر ہیں۔ امریکا کے”کارلٹن“ کالج کی اسکالرشپ ہولڈر طالبہ ہیں۔ یونیسف یوتھ فورسائیٹ فلوشپ 2024 میں پاکستان کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ کلائمٹ ایکٹوسٹ اور جرنلسٹ ہیں۔ مصنفہ، سوشل میڈیا کونٹینٹ کریئٹر اور مقررہ ہیں۔ پاکستان میں اقوام متحدہ اور حکومت پاکستان نے مشترکہ طور پر انہیں "کلائمٹ ہیرو" کے اعزاز سے نوازا ہے۔ یونیورسٹی آف ٹورنٹو، یورپ کے معتبر میگزین”جرنل آف سٹی کلائمٹ پالیسی اینڈ اکانومی”، اور نوبل پرائز ونر ملالہ یوسف زئی کے عالمی شہرت یافتہ میگزین “اسمبلی” میں مضامین چھپ چکے ہیں۔ پاکستان کے قومی اخبارات میں بلاگز لکھتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے تحت امریکا اور اٹلی میں یوتھ فار کلائمٹ چینج انٹرنیشنل کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ارجنٹائن میں انٹرنیشنل سی فورٹی سمٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اقوام متحدہ اور انٹرنیشنل سول سوسائٹی کے تحت کانفرنس میں بطور پینلسٹ شامل ہیں۔ مضمون نویسی کے متعدد بین الاقوامی مقابلے بھی جیت چکی ہیں۔ نیدرلینڈز کے سرکاری ٹی وی نے زینب وحید کو پاکستان کی گریٹا تھنبرگ قرار دیا ہے.








