صدر ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، 12 ممالک پر مکمل سفری پابندیاں عائد
نیے صدارتی حکمنامے کا اجرا
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک نیا صدارتی حکمنامہ جاری کرتے ہوئے 12 ممالک پر مکمل سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ 6 ممالک کو جزوی پابندیوں کی زد میں لایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں راستہ بند کرنے سے منع کرنے پر نوجوان قتل، مرکزی ملزم گرفتار
پابندیوں سے پاکستان کی استثنیٰ
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق ابتدائی مرحلے میں پاکستان کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، جسے سفارتی حلقے واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان حالیہ روابط کا مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ آئینی بینچ نے جسٹس منصورعلی شاہ کے خلاف توہین عدالت کیس نمٹا دیا
نئی پابندیوں کی تفصیلات
صدارتی حکم کے مطابق یہ نئی سفری پابندیاں پیر 9 جون سے نافذ العمل ہوں گی جس کے بعد متاثرہ ممالک کے شہریوں کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی یا انہیں سخت ترین سیکیورٹی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کا بھارت کے خلاف کھیلنے سے انکار، آئی سی سی پریشان
مکمل پابندیوں کی فہرست
نئے حکمنامے کے مطابق جن 12 ممالک پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے ان میں:
- افغانستان
- ایران
- یمن
- لیبیا
- صومالیہ
- سوڈان
- کانگو
- برما
- چاڈ
- ایریٹریا
- استوائی گنی
- ہیٹی
ان ممالک کے شہریوں کو امریکی ویزا یا امیگریشن کی کسی بھی سہولت سے مکمل طور پر محروم کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ میں گھریلو تشدد کے خلاف اور ٹرانسجینڈرز کے حقوق سے متعلق بل منظور
جزوی پابندیوں کی فہرست
امریکی صدر نے مزید 6 ممالک کو جزوی سفری پابندی کی فہرست میں شامل کیا ہے جن میں:
- برونڈی
- کیوبا
- لاؤس
- سیرالیون
- ترکمانستان
- وینزویلا
ان ممالک کے مسافروں کو امریکا میں داخلے سے قبل سخت جانچ پڑتال، اضافی تصدیق، اور محدود ویزہ شرائط کا سامنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اگر میرے کانٹینٹ سے منفی اثر ہوا ہو تو میں پوری قوم سے معافی مانگتا ہوں، جیل سے رہائی کے بعد ڈکی بھائی کا پہلا ولاگ
پاکستان کی مستقبل کی صورتحال
ابتدائی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں ہے، جسے عارضی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امریکہ مخالف ملکوں کی فہرستیں مرتب کریں، جس کے بعد مستقبل میں نئی پابندیوں کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
صدر ٹرمپ کا بیان
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ "یہ فیصلے امریکی عوام کی سلامتی، ملکی مفاد اور داخلی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ ایسے افراد کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا جو ملک کے لیے سیکیورٹی خطرہ بن سکتے ہیں۔








