ترقی یافتہ ممالک کی پیدا کردہ آلودگی کا خمیازہ غریب ممالک کیوں بھگتیں؟ شیری رحمان
چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی سینیٹ کا بیان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی سینیٹ برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کی پیدا کردہ آلودگی کا خمیازہ غریب ممالک کیوں بھگتیں؟
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر نیاز اللہ نیازی نے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عمران ریاض کے نام درخواست لکھ دی، وصولی سے انکار
پاکستان کی ماحولیاتی صورتحال
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ماحولیات کے عالمی دن پر اپنے بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ جرمن واچ کلائمیٹ رسک انڈیکس میں پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ ہمارے گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، بارشوں کا نظام بگڑ چکا ہے اور فضا میں زہریلا دھواں عام ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر ثناء یوسف قتل کیس: ملزم کا مزید 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور
حالیہ ماحولیاتی تبدیلیاں
انہوں نے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد میں حالیہ ژالہ باری اور طوفانی بارشیں اس ماحولیاتی بے ترتیبی کا مظہر ہیں۔ ہم نے عالمی آلودگی میں معمولی حصہ ڈالا لیکن سب سے بھاری قیمت ہمیں چکانا پڑ رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تشویش کا اظہار
بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک کی ذمہ داری
شیری رحمان نے کہا کہ بڑے آلودگی پھیلانے والے ممالک خاموش بیٹھے ہیں، پاکستان کو تنہا چھوڑا جا رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی پیدا کردہ آلودگی کا خمیازہ غریب ممالک کیوں بھگتیں؟ اس تباہی کا خمیازہ بھگتنے والے ممالک کو بچائے جانے تک انصاف محض ایک خوش فہمی ہوگا۔
آئندہ نسلوں کے لیے چیلنجز
انہوں نے کہا کہ شہروں کی منصوبہ بندی، زراعت، پانی اور بنیادی ڈھانچے میں انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ دنیا ہماری مدد کو نہیں آئے گی، ہمیں خود اپنی بقا کی جنگ لڑنی ہے۔ اگر ہم نے اب اقدامات نہ کیے تو آئندہ نسلوں کے لیے کچھ بھی باقی نہیں بچے گا۔








