جنوبی کوریا میں ہفتہ وار چار دن کام کے معاملے میں عوام کی ملی جلی رائے
جنوبی کوریا میں کام کے اوقات میں تبدیلی
سیول (رضا شاہ) جنوبی کوریا میں حالیہ صدارتی انتخابات کے بعد کام کے اوقات میں کمی، خاص طور پر 4 دن کے ورک ویک (ہفتہ وار کام کے دنوں) کے حوالے سے بحث میں شدت آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے آئندہ 15 روز کے لیے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا
سیاسی جماعتوں کی تجاویز
دونوں بڑی سیاسی جماعتیں ڈیموکریٹک پارٹی اور پیپل پاور پارٹی نے 4.5 دن کے ورک ویک کی تجویز دی ہے، جبکہ کامیاب ہونے والی ڈیموکریٹک پارٹی مستقبل میں مکمل چار دن کے ورک ویک کا ارادہ رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میوہسپتال میں ایڈز کے مریضوں کو کس وارڈ میں داخل کیا جارہاہے؟ بڑا انکشاف
معاشرتی مسائل اور ملازمین کی رائے
موجودہ صدر لی جے میونگ اور حکومت کا مؤقف ہے کہ کام کے دنوں میں کمی دنیا بھر میں ایک بڑھتا ہوا رجحان ہے، جو نہ صرف زندگی کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ کم پیدائش کی شرح جیسے معاشرتی مسائل کا بھی حل ہو سکتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 44.2٪ لوگ چار دن کے ورک ویک کی حمایت کرتے ہیں، چاہے اس کے بدلے تنخواہ کم ہو جائے جبکہ 49.8٪ لوگ تنخواہ میں کمی کی صورت میں اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ نوجوان نسل عام طور پر تنخواہ میں کمی کے خلاف ہے، چاہے کام کے دن کم ہی کیوں نہ ہوں، وہ مالی استحکام کو زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حمزہ شہباز کو چیئرمین پبلک افیئرز یونٹ برائے وزیراعظم تعینات کئے جانے کا امکان
کاروباری اداروں کی تشویش
کاروباری ادارے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے (SMEs)، فکر مند ہیں کہ کام کے دن کم کرنے سے پیداوار پر منفی اثر پڑے گا اور لیبر لاگت بڑھ جائے گی۔ کوریا انٹرپرائزز فیڈریشن کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی عملی طور پر بہت سی کمپنیوں کے لیے ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چیف آف ڈیفنس سٹاف کا عہدہ قائم کیا جائے جس کے ماتحت تمام مسلح افواج ہوں، اشتر اوصاف
بڑی کمپنیوں کے تجربات
کچھ بڑی کمپنیاں جیسے سام سنگ، پوسکو اور SK گروپ نے بھی تجرباتی طور پر 4 دن کے ورک ویک شروع کیے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ اس سے ملازمین کی کارکردگی اور اطمینان پر کیا اثر پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، وزیر اعظم
حکومت کی ماضی کی تجاویز
اس بحث سے قبل حکومت کو اُس وقت شدید عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب 69 گھنٹے کے ہفتہ وار کام کی حد بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ خاص طور پر نوجوانوں کی مخالفت کے بعد حکومت کو یہ تجویز واپس لینی پڑی۔
بہتر زندگی کے لیے شروعات
چار دن کے ورک ویک کی تجویز کو بہت سے لوگ بہتر زندگی، ذہنی صحت، اور خاندانی وقت کے لیے خوش آئند سمجھتے ہیں، مگر اس کے نفاذ میں تنخواہ، پیداواری صلاحیت، اور کاروباری لاگت جیسے چیلنجز سامنے آ رہے ہیں۔ حکومت اور عوامی ادارے تجرباتی بنیادوں پر اس خیال کو آگے بڑھا رہے ہیں، اور ان تجربات کے نتائج آئندہ پالیسی سازی پر اثر انداز ہوں گے.








