پاک بھارت جنگ: وزیراعظم نے نقصانات کے جائزے کے لیے کمیشن تشکیل دے دیا
وزیراعظم کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے پاک بھارت جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ سطح کمیشن تشکیل دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میری بات کو توڑ مروڑ کر یوں پیش کیا گیا جیسے میں نے کوئی دھمکی دی ہو، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ایمان مزاری سے متعلق ریمارکس پر وضاحت
کمیشن کی تشکیل
نجی ٹی وی د نیا نیوز کے اعلامیہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا کو 15 رکنی اعلیٰ سطح کمیشن کا سربراہ مقرر کیا ہے، جبکہ ڈی جی ایف آئی اے رفعت مختار کو کنونیئر کی حیثیت سے تعینات کیا گیا ہے۔ کمیشن میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری آزاد کشمیر، سیکرٹری ہوم پنجاب اور دیگر بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: معروف شخصیت نے مجھے تیسری بیوی بننے کے لیے زمین جائیداد کی پیشکش کی، ملائیشین اداکارہ ’ایمی نورٹینی‘ کا انکشاف
کمیشن کے اراکین
کمیشن کے دیگر اراکین میں ڈی آئی جی آپریشنز پنجاب وقاص نذیر، ڈی آئی جی سکیورٹی کامران عادل اور ڈی آئی جی سپشل برانچ آزاد کشمیر حسن قیوم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، پراسکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ اور ڈی جی آئی سی ہیومن رائٹس بھی کمیشن کا حصہ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کیلئے امریکی کانگریس ارکان کے خط پر سینیٹر شیری رحمان کا رد عمل آ گیا
رپورٹ کی تیاری
اعلامیہ کے مطابق کمیشن 30 روز میں اپنی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گا۔ یہ کمیشن پاک بھارت تنازع کے دوران شہید اور زخمی ہونے والے سویلین سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرے گا اور کرائم سین سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے تحت شواہد حاصل کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی ایئرپورٹ پر میزائل حملہ
فرانزک رپورٹ کی تیاری
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ سطح کمیشن فرانزک رپورٹ کی تیاری کی سربراہی بھی کرے گا۔ کمیشن کو کسی بھی اضافی شواہد کی جانچ کا مکمل اختیار حاصل ہوگا اور وزارت داخلہ کمیشن کو مکمل سہولیات فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔
بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی
ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیشن بھارت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے متعلق بھی معلومات جمع کرے گا۔








