جی ایچ کیو حملہ کیس: دوران سماعت پی ٹی آئی وکلاکی ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی
راولپنڈی میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت
جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکلا نے ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا یورپی یونین سے بھارت اور چین پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کا مطالبہ
ہنگامہ آرائی کے اثرات
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے سامنے کیس کی سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکلا نے ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی۔ ہنگامہ آرائی کی وجہ سے 2 گواہوں کے بیانات قلم بند نہ ہو سکے جبکہ ایک گواہ اور مقدمے کے مدعی سب انسپکٹر محمد ریاض کا بیان قلمبند کرلیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فوری طور پر بند سڑکوں کو کھول دیا جائے، علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی ابھی تک فرار ہیں: محسن نقوی
عدالتی کارروائی
وکلا صفائی کی ہنگامہ آرائی پر اے ٹی سی جج کی جانب سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا۔ وکلا صفائی نے سماعت کے دوران سلمان اکرم راجا کو عدالت میں بلانے پر اصرار بھی کیا جس پر پراسکیوشن نے اعتراض اٹھایا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران پر اسرائیلی جارحیت، وزیر اعلیٰ مریم نواز کا بیان بھی آ گیا
عمران خان کی پیشی
سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 21 جون تک ملتوی کردی۔ واضح رہے کہ مقدمے میں کُل 31 گواہان کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں۔
مقدمے میں ملزمان
جی ایچ کیو حملہ کیس میں پی ٹی آئی کی مرکزی و مقامی قیادت نامزد ہے۔ اس کیس میں 118 ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے جن میں بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، عمر ایوب، شبلی فراز، شیخ رشید اور دیگر شامل ہیں۔








