پی ٹی آئی کا احتجاج کا اعلان لیکن کیا حکومت کی طرف سے کوئی رابطہ ہوا یا نہیں؟ اسد قیصر نے بتادیا
حکومت کی طرف سے عدم رابطہ
پشاور (ویب ڈیسک) سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ احتجاج کی خبروں کے بعد حکومت نے بات چیت کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا، حکومت نے الٹا ہم پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: ٹاک ٹاک پر دوستی کا انجام، اغوا ہونے والی لڑکی ڈیفنس سے بازیاب
سینیٹ انتخابات کا فوری اعلان
ایکسپریس نیوز کے مطابق پشاور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کا فوری اعلان کیا جائے، صوبے کو اس کا حق دیا جائے، سینیٹ انتخابات میں تاخیر کے لیے حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، پہلے ہی فضا بنائی گئی کہ سپریم کورٹ نے کیا فیصلہ دینا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی کابینہ کا اجلاس موخر کردیا گیا
آئینی بحران اور فنڈز کی عدم فراہمی
انہوں نے کہا کہ ابھی فیصلہ آیا بھی نہیں، لیکن انہیں یقین ہے کہ وہ سینیٹ میں اپنی نشستیں بڑھائیں گے، صوبے کو سینیٹ سے محروم رکھ کر آئینی بحران پیدا کیا گیا۔ ایک صوبے کے ساتھ دشمنی اس حد تک بڑھ گئی کہ فنڈز بھی نہیں دیے جا رہے، سینیٹ انتخابات بھی نہیں کروا رہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریفک وارڈنز کی وردی کے ساتھ کیمرے منسلک، بغیر ثبوت چالان نہیں ہونگے
جمہوریت کا فقدان
ان کا کہنا تھا کہ یہاں جمہوریت صرف نام کی رہ گئی ہے، سینیٹ کے لیے ڈرامہ رچایا جا رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر میں اگر کچھ اخلاقیات ہیں تو استعفیٰ دے دیں، الیکشن کمشنر نے تاریخ کے بدترین انتخابات کروائے، اس نے عوام کے ووٹ چوری کرنے کا سرٹیفکیٹ خود اپنے سر لے لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیوٹی پارلر میں کام کرنیوالی “محبوبہ” سے ملنے کے لیے آیا نوجوان رکشہ ڈرائیور سمیت قتل، ساری کہانی سامنے آگئی
ملک کے حالات کی نگرانی
اسد قیصر نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے جو بحران پیدا کیا، وہ ملک میں بڑی دیر تک رہے گا۔ احتجاج کی خبروں کے بعد حکومت نے بات چیت کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا، حکومت نے الٹا ہم پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ دو تین سال دباؤ ڈالا، لیکن 8 فروری کو انہیں اصل صورتحال کا اندازہ ہو گیا۔
قانون کی بالادستی کی ضرورت
سابق اسپیکر نے کہا کہ بلوچستان، سندھ، کشمیر حتیٰ کہ کراچی میں بھی حالات ان کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں۔ ملک چلانے کے لیے آئین و قانون کی بالادستی ضروری ہے، سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، ملک کو اس وقت "بنانا ریپبلک" بنا دیا گیا ہے۔








