ایلون مسک سے تنازع، ٹرمپ کی جانب سے خریدی گئی سرخ ٹیسلا کار کا اب کیا ہوگا؟ جانیے
ٹرمپ اور مسک کے درمیان تنازع
واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک کے درمیان جاری تنازع کے دوران ٹرمپ کی جانب سے خریدی گئی ٹیسلا کار کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں مزید 15 دنوں کے لیے دفعہ 144 نافذ
ٹرمپ کی ٹیسلا کار کی خریداری
امریکی میڈیا کے مطابق یہ گاڑی ٹرمپ نے رواں سال کے آغاز میں اس وقت خریدی تھی جب وہ ایلون مسک کے کاروبار کی تشہیر کے لیے وائٹ ہاؤس میں ایک فوٹو سیشن کرا رہے تھے۔ ایک وائٹ ہاؤس اہلکار کے مطابق ٹرمپ کے اس اقدام کا مقصد مسک کی کمپنیوں اور امریکی ٹیکنالوجی کے لیے حمایت ظاہر کرنا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا کام صرف مذمت کرنا نہیں بلکہ پالیسی بنا کر دہشت گردی کے اسباب اور ان واقعات کی مستقل روک تھام ہے، حافظ نعیم الرحمان
ٹیسلا کار کا مستقبل
جیو نیوز کے مطابق جمعرات کی شام تک ٹیسلا کی یہ گاڑی وائٹ ہاؤس کے ویسٹ وِنگ کے باہر پارک تھی۔ اب امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی سرخ رنگ کی ٹیسلا ماڈل ایس کار کو بیچنے یا کسی کو تحفے میں دینے پر غور کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے آپریشنز کا دورانیہ افغان طالبان حکومت کے زمینی اقدامات پر منحصر ہوگا، ہم کسی جلد بازی میں نہیں: سینئر سیکیورٹی عہدیدار
مسک اور ٹرمپ کی دشمنی
خیال رہے کہ ایلون مسک اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوستی ختم ہوتے ہی دشمنی میں بدل گئی اور اب ایک دوسرے پر سنگین الزامات کا تبادلہ ہورہا ہے۔ ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام جنسی اسکینڈلز میں بدنام ایپسٹین کی فائلوں میں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شادی کی تقریب کے دوران دولہا غائب، کئی مہینوں بعد سراغ ملا تو ایسا انکشاف کہ دلہن کی ساری خوشیوں پر پانی پھر گیا
جیفری ایپسٹین کا معاملہ
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین کمسنوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کئی واقعات میں ملوث قرار دیا گیا تھا اور سن 2019 میں وہ پراسرار طورپر جیل میں مردہ پایا گیا تھا۔ جیفری ایپسٹین امریکا سمیت مختلف ممالک کی اہم ترین شخصیات کا دوست تھا اور انہیں اپنے گھر پارٹیوں میں مدعو کرتا تھا۔
سوشل میڈیا پر کاٹا گیا زخم
ٹیسلا کے مالک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹرمپ کو ’احسان فراموش‘ بھی قرار دیا۔ مسک سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے لفظی گولہ باری کی اور کہا کہ خود انہوں نے ایلون مسک کو حکم دیا تھا کہ وہ انتظامیہ سے علیحدہ ہوجائیں اور یہ بھی کہ مسک پاگل ہوگئے ہیں۔








