کیا بھونے ہوئے چنے کھانے سے صحت بہتر ہوتی ہے یا نہیں؟ تازہ تحقیق میں جواب مل گیا
بھنے ہوئے چنے: صحت کے فوائد
لاہور (ویب ڈیسک) بھنے ہوئے چنے پاکستان میں کئی افراد کی پسندیدہ snack ہیں اور اکثر بے وقت بھوک لگنے پر کھائے جاتے ہیں۔ یہ مانا جاتا ہے کہ چنوں کا استعمال انسانوں کی جانب سے ہزاروں سال سے کیا جا رہا ہے، جو کہ صحت کو بہتر بناتے ہیں۔ اس موضوع پر ایک نئی طبی تحقیق سامنے آئی ہے جس میں اس کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی تعلیمی ایمرجنسی پالیسی کا بھانڈا پھوٹ گیا، ڈھائی کروڑ بچے اسکول سے باہر ہونے کا انکشاف
تحقیق کی تفصیلات
جیو نیوز کے مطابق، الینواس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی اس تحقیق میں یہ بتایا گیا ہے کہ روزانہ ایک کپ چنے کھانے سے بلڈ کولیسٹرول کو کنٹرول میں رکھنے میں مدد ملتی ہے، جو کہ امراض قلب کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: زمبابوے کے خلاف میچ میں دھواں دار سنچری کے بعد صائم ایوب کی گفتگو
کولیسٹرول کی سطح میں کمی
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ روزانہ 160 گرام چنے کھانے سے کولیسٹرول جیسے دائمی مرض سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سستا اور آسان طریقہ ہے جس سے اس خطرناک مرض سے بچا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ایئرپورٹ پر دبئی جانے والے مسافر سے آئس ہیروئن اور نشہ آور گولیاں برآمد
دن کے 12 ہفتے کی تحقیق
ہائی بلڈ شوگر کا شکار افراد پر چنوں کے اثرات کا تجربہ کرنے کے لئے 12 ہفتوں تک پھلیوں کا استعمال کرایا گیا۔ اس دوران، ان لوگوں کے بلڈ کولیسٹرول کی سطح 200.4 ملی گرام فی decilitre سے کم ہوکر 185.8 ملی گرام فی decilitre ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: روس کا جوہری نظریہ کیا ہے اور اس میں نئی تبدیلیوں کا امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر کیا اثر ہوگا؟
ورم کی سطح میں کمی
تحقیقی نتائج میں یہ بھی دیکھا گیا کہ سیاہ بیجوں کے استعمال سے جسم میں ورم کی سطح میں کمی آتی ہے۔ اس تحقیق میں 72 افراد کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک گروپ کو ایک کپ سیاہ بیج، دوسرے کو چنے اور تیسرے کو چاول کھانے کا مشورہ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ سکرین پر غیر اخلاقی ویڈیو چلا دی، 1 شخص گرفتار
ذیابیطس کا خطرہ
محققین نے بتایا کہ ہائی بلڈ شوگر کے شکار افراد کے جسم میں ورم اور میٹابولزم کے افعال متاثر ہونے کی صورت میں، امراض قلب اور ذیابیطس ٹائپ 2 کا خطرہ بڑھتا ہے۔
چنوں کے غذائی اجزا
چنوں میں وٹامن A، E اور C سمیت دیگر غذائی اجزا جیسے آئرن اور میگنیشم بھی شامل ہوتے ہیں، جو صحت کے لیے مفید ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج امریکن سوسائٹی فار نیوٹریشن کی سالانہ کانفرنس میں پیش کیے گئے۔








