کون سے شعبے کی ترقی رہی؟ اقتصادی جائزہ کو حتمی شکل دے دی گئی
اسلام آباد میں اکنامک سروے کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) رواں مالی سال کے اکنامک سروے کو حتمی شکل دے دی گئی جو کل پیش کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: قاضی فائز عیسیٰ نے منفرد اعزاز اپنے نام کرلیا
معاشی ترقی کی شرح
نجی ٹی وی جیو نیوزنے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ رواں مالی سال معیشت کی عبوری شرح نمو 2.68 فیصد رہی جبکہ ہدف 3.6 فیصد تھا۔ رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کا حجم 39 ارب 30 کروڑ ڈالر بڑھا، معیشت کا حجم 410 ارب 96 کروڑ ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال پاکستان کی معیشت کا حجم 371 ارب 66 کروڑ ڈالر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: لینڈ مارک ڈویلپرز نے 13 کامیاب پراجیکٹس اور 500 یونٹس کی ڈلیوری کے بعد The Oasis Grand 14 لانچ کر دیا، 25 دسمبر سے پہلے پری لانچ آفر
سالانہ آمدن میں اضافہ
ذرائع کا بتانا ہے کہ رواں مالی سال فی کس سالانہ آمدن 144 ڈالر بڑھی جبکہ سالانہ آمدن 1680 ڈالر رہی تھی۔ ملکی معیشت کا حجم 9600 ارب روپے بڑھا، رواں مالی سال پاکستان کی معیشت کا حجم 114.7 ہزار ارب روپے رہا، جبکہ گزشتہ سال پاکستان کی معیشت کا حجم 105.1 ہزار ارب روپے تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے خلاف 96 گھنٹوں کی لڑائی مکمل طور پر اپنے وسائل سے لڑی: جنرل ساحر شمشاد مرزا
زرعی شعبے کی کارکردگی
ذرائع کا کہنا ہے زرعی شعبے کی گروتھ 0.56 فیصد رہی، جبکہ گروتھ کا ہدف 2 فیصد تھا۔ اہم فصلوں کی گروتھ منفی 13.49 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف منفی 4.5 فیصد تھا۔ دیگر فصلوں کی گروتھ 4.78 فیصد ریکارڈ ہوئی جبکہ ہدف 4.3 فیصد تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ایئر فورس نے مگ 21 طیاروں کو ہمیشہ کیلئے گراؤنڈ کر دیا
سخت چیلنجز کا سامنا
کاٹن جیننگ کی گروتھ منفی 19 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف منفی 2.3 فیصد مقرر تھا۔ لائیو اسٹاک شعبے کی شرح افزائش 4.72 فیصد جبکہ ہدف 3.8 فیصد تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 27ویں آئینی ترمیم ہمیں غلام بنانے کا حربہ ہے، بیرسٹر سلمان اکرم راجا
دیگر اقتصادی شعبوں کی کارکردگی
اسی طرح جنگلات کی گروتھ 3.03 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 3.2 فیصد تھا۔ ماہی گیری کے شعبے کی شرح نمو 1.42 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 3.1 فیصد تھا۔ صنعتی شعبے کی گروتھ 4.77 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 4.4 فیصد تھا۔
یہ بھی پڑھیں: انڈر 19 ایشیا کپ کے لیے پاکستان کے اسکواڈ کا اعلان
پیداواری شعبے کی صورتحال
ذرائع کے مطابق اکنامک سروے میں بتایا گیا ہے کہ پیداواری شعبے کی گروتھ 1.34 فیصد رہی، جبکہ گروتھ کا ہدف 4.4 فیصد تھا۔ بڑی صنعتوں کی گروتھ منفی 1.53 فیصد رہی، جبکہ گروتھ کا ہدف 3.5 فیصد تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جج کو اسٹریس لینا نہیں اسٹریس دینا چاہیے‘‘لاہور ہائیکورٹ جسٹس جواد حسن کا خطاب
چھوٹی صنعتوں کا مثبت کردار
چھوٹی صنعتوں کی گروتھ 8.81 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ گروتھ کا ہدف 8.2 فیصد تھا۔ بجلی، گیس اور پانی سپلائی کے شعبوں کی گروتھ 28.88 فیصد ریکارڈ ہوئی، جبکہ ہدف 2.5 فیصد تھا۔
یہ بھی پڑھیں: راجیو شکلا کو بھارتی کرکٹ بورڈ کا قائمقام صدر بنادیاگیا
خدمات کے شعبے کی ترقی
تعمیرات کے شعبے کی شرح نمو 6.61 فیصد رہی جبکہ ہدف 5.5 فیصد مقرر تھا۔ خدمات کے شعبے کی گروتھ 2.91 فیصد رہی، جبکہ گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف کی آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہو گی، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کر دی
تجارتی شعبے کی کارکردگی
ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ کی گروتھ 0.14 فیصد رہی جبکہ گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد مقرر تھا۔ ہوٹلز اینڈ ریسٹورینٹس کی گروتھ 4.06 فیصد رہی، جبکہ گروتھ کا ہدف 4.1 فیصد تھا۔
تعلیمی اور صحت کے شعبے کی ترقی
تعلیم کے شعبے کی گروتھ 3.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 4.43 فیصد رہی، انسانی صحت اور سوشل ورک سرگرمیوں کی گروتھ 3.2 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.71 فیصد رہی۔








