آلائشوں کو ضائع کرنے کے بجائے ان سے کس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟
آلائشوں کو کارآمد بنانے کا مشورہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترجمان ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان رفیع الحق نے آلائشوں کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں کارآمد بنا کر پودوں کی کھاد بنانے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی آئینی ترمیم کے بدلے این آر او حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ملنا نہیں،عظمیٰ بخاری
ماحولیاتی آلودگی اور بیماریوں کا خطرہ
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اپنے ایک بیان میں ترجمان ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان رفیع الحق کا کہنا تھا کہ مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے سے آلائشیں ماحولیاتی آلودگی اور بیماریوں کا سبب بنتی ہیں لہٰذا آلائشوں کو ضائع نہ کریں، ان سے پودوں کیلئے کھاد بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: 27 ویں ترمیم پر مشاورت، سینیٹر فیصل واوڈا کی مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات
زمین کی زرخیزی میں اضافہ
رفیع الحق کے مطابق آلائشوں کو ماحول دوست انداز میں استعمال کر کے زمین کی زرخیزی بڑھائی جا سکتی ہے جبکہ تربیت یافتہ افراد، ادارے، شعبہ باغات اور زرعی ادارے اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ امرخان کی نسیم وکی اورریمبو کے ساتھ لالی ووڈ گانے پر رقص کرتے ہوئے ویڈیو وائرل
کھاد بنانے کا طریقہ
ترجمان ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان رفیع الحق نے کہا کہ آنتیں، گوشت کے ٹکڑے، خون، سبزیوں کے چھلکے، پتوں اور مٹی کو ملا کر کمپوزٹ تیار کیا جا سکتا ہے۔ یہ کھاد کسی بھی پارک کے کونے میں تیار کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہبازشریف 3 روزہ دورے پر آذربائیجان پہنچ گئے
کھاد کی تیاری کے مراحل
انھوں نے کہا کہ کھاد بنانے کیلئے آلائشیں، پتیاں، گھاس اور مٹی تہہ بہ تہہ رکھیں، 40 سے 60 دن میں اعلیٰ معیار کی کھاد تیار ہو جاتی ہے۔
مائع کھاد کا استعمال
رفیع الحق کا مزید کہنا تھا کہ جانوروں کا خون نائٹروجن سے بھرپور ہوتا ہے، جانوروں کے خون کو بطور مائع کھاد استعمال کیا جا سکتا ہے جو پودوں کے لیے بہترین خوراک ہے۔ مائع کھاد سبز پتوں والے پودوں کے لئے مفید ہے۔ مزید برآں جانوروں کی ہڈیوں کو پیس کر "بون میل" بھی بنایا جاتا ہے جو فاسفورس اور کیلشیم سے بھرپور کھاد ہے۔







