آلائشوں کو ضائع کرنے کے بجائے ان سے کس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے؟
آلائشوں کو کارآمد بنانے کا مشورہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترجمان ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان رفیع الحق نے آلائشوں کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں کارآمد بنا کر پودوں کی کھاد بنانے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ بھی ممکن ہے کہ بالکل نئی پٹری بچھائی جائے جو پرانے وقتوں کے سارے دکھوں کو بھلا کر خراماں خراماں افغانستان کی سرحد تک جا پہنچے
ماحولیاتی آلودگی اور بیماریوں کا خطرہ
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق اپنے ایک بیان میں ترجمان ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان رفیع الحق کا کہنا تھا کہ مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے سے آلائشیں ماحولیاتی آلودگی اور بیماریوں کا سبب بنتی ہیں لہٰذا آلائشوں کو ضائع نہ کریں، ان سے پودوں کیلئے کھاد بنائیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈائنوسارز کی آواز کیسی ہوتی تھی؟ فلمی تاثر غلط ثابت ہوگئے
زمین کی زرخیزی میں اضافہ
رفیع الحق کے مطابق آلائشوں کو ماحول دوست انداز میں استعمال کر کے زمین کی زرخیزی بڑھائی جا سکتی ہے جبکہ تربیت یافتہ افراد، ادارے، شعبہ باغات اور زرعی ادارے اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سفارتی اور معاشی کامیابیوں سے دفاعی تیاری تک، پاکستان خطے کی نئی ذمہ دار طاقت بن گیا، امریکی ٹیرف میں کمی سے کتنا فائدہ ہوگا؟ جانیے۔
کھاد بنانے کا طریقہ
ترجمان ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان رفیع الحق نے کہا کہ آنتیں، گوشت کے ٹکڑے، خون، سبزیوں کے چھلکے، پتوں اور مٹی کو ملا کر کمپوزٹ تیار کیا جا سکتا ہے۔ یہ کھاد کسی بھی پارک کے کونے میں تیار کی جا سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی ذات میں موجود مختلف صلاحیتوں کا اظہار کرنے میں بذات خود کوئی برائی نہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انہیں ضرررساں انداز میں استعمال کیا جا سکتاہے
کھاد کی تیاری کے مراحل
انھوں نے کہا کہ کھاد بنانے کیلئے آلائشیں، پتیاں، گھاس اور مٹی تہہ بہ تہہ رکھیں، 40 سے 60 دن میں اعلیٰ معیار کی کھاد تیار ہو جاتی ہے۔
مائع کھاد کا استعمال
رفیع الحق کا مزید کہنا تھا کہ جانوروں کا خون نائٹروجن سے بھرپور ہوتا ہے، جانوروں کے خون کو بطور مائع کھاد استعمال کیا جا سکتا ہے جو پودوں کے لیے بہترین خوراک ہے۔ مائع کھاد سبز پتوں والے پودوں کے لئے مفید ہے۔ مزید برآں جانوروں کی ہڈیوں کو پیس کر "بون میل" بھی بنایا جاتا ہے جو فاسفورس اور کیلشیم سے بھرپور کھاد ہے۔








