کلو سے کچھ نہیں ہوگا میں پوری ران کھاتا ہوں۔۔۔ (مسکرائیے)
نمکین غزل
پہلا شعر
کسی کا خون پیتا ہوں نہ یارو جان کھاتا ہوں
تمہیں ہے کیا پریشانی اگر میں پان کھاتا ہوں
دوسرا شعر
جو تم نے لا کے رکھی ہے کلو بھر کی فرائی ہے
کلو سے کچھ نہیں ہو گا میں پوری ران کھاتا ہوں
تیسرا شعر
کہ جب سے ہو گیا یارو جگر کا عارضہ مجھ کو
پراٹھا کھا نہیں سکتا میں روکھا نان کھاتا ہوں
یہ بھی پڑھیں: ہم تو برداشت کر لیں گے یہ نہیں کر پائیں گے تمہارے آنسو ابھی سے نظر آ رہے ہیں، مرحوم مشاہد اللہ خان کے تاریخی الفاظ آج بھی زندہ ہیں، محسن شاہنواز رانجھا
بات چیت کا سلیقہ
سلیقے سے میں کرتا ہوں سبھی سے گفتگو افضل
جو مجھ سے بحث کرتے ہیں انہی کے کان کھاتا ہوں
کلام
افضل ہزاروی








